30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسئلہ ۱۰۰: ازلکنؤمحلہ باغ قاضی مکان داروغہ منشی مظفرعلی مرسلہ حکیم محمدابراہیم صاحب بریلوی ثم اللکنوی رجب ۱۳۲۱ھ
بعدآرزوئے قدمبوسی معروض خدمت یہاں دربارہ ترکہ جھگڑا ہے،فرنگی محل کے علماء نے ترکہ زوجہ اورہمشیراورچچازادبھائی کے لڑکوں میں تقسیم کیاہے اور سگی بھتیجی اورچچازادبھائی کے لڑکوں میں تقسیم کیا ہے اور سگی بھتیجی اورچچازادبھائی کی لڑکیوں کومحجوب کیاہے مقصود صرف اس قدرہے کہ ان بھتیجوں کوکسی وجہ سے ترکہ پہنچتاہے جبکہ متوفی کے روبرو ان کے والد فوت ہو چکے ہیں فقط۔
الجواب:
فی الواقع جب تك دادا پرادادا کی اولاد میں کوئی مرد باقی ہے اگرچہ کتنے ہی دور کے رشتے کاہو اس کے سامنے سگی بھتیجیاں کچھ نہیں پاسکتیں،حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وسلم فرماتے ہیں:
|
الحقوا الفرائض باھلھا فما بقی فلاولی رجل ذکر۔ رواہ الائمۃ احمد[1] والبخاری ومسلم والترمذی عن ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
اصحاب فرائض کو ان کے مقررہ حصے دوجوباقی بچے وہ قریبی مرد کے لئے ہے۔اس کو امام احمد،امام بخاری،امام مسلم اور ترمذی نے حضرت ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے روایت کیاہے۔اور اﷲ تعالٰی خوب جانتاہے۔(ت) |
مسئلہ ۱۰۱: ازشہرکہنہ ۲۵صفر۱۳۲۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس باب میں کہ ایك باپ اور دوماں سے تین بیٹے ہیں،پہلی بیوی سے سیدمحرم علی اوردوسری بیوی سے سیدوزیرعلی سیدمنیرعلی پیداہوئے اوردولڑکیاں پیداہوئیں۔سیدمحرم علی صحبت شیعہ میں شیعہ ہوگئے اب ان کاانتقال ہوا موافق وصیت کے تجہیزوتکفین ان کی شیعوں نے کی اسباب ان کامالیت تخمینًا ؎ کاہے یہ اسباب بموجب شرع شریف سید وزیرعلی ومنیرعلی اورہمشیران پانے کے مستحق ہیں یانہیں؟بیّنواتوجروا۔
[1] صحیح البخاری کتاب الفرائض باب میراث الولد من ابیہ وامہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۹۹۷،صحیح مسلم کتاب الفرائض ۲ /۳۴ و جامع الترمذی ابواب الفرائض ۲ /۳۱،مسنداحمدبن حنبل ۱ /۳۲۵
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع