30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
درشریفیہ فرمود الاخوۃ مع الاب لایجعلون کالموتٰی وان کانوا لایرثون معہ لان اھلیۃ الارث ثابتۃ لھم وانما لم یرثوا فی ھذہ الحالۃ لفقدان الشرط وھو عدم الاب[1]۔
بلکہ حجب بجہۃ آں کہ اصحاب فرائض ہیچ نگزاشتند ودخل دراخراج او از زمرہ ورثہ است بہ نسبت حجب وارث اقرب زیراکہ آنجا فقد شرط است واینجا فقدان محل کہ عصبہ رامحل وراثت نیست مگرمالیکہ ازذوی الفرائض باقی ماند،درسراجیہ فرمود العصبۃ کل من یاخذ من الترکۃ ما ابقتہ اصحاب الفرائض[2] الخ ھٰذا ماعندی والعلم بالحق عند ربی،واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم۔
|
وغیرہ میں ہے کہ کسی شخص نے اپنے بھائی کے لئے وصیت کی درا نحالیکہ وہ وارث تھا پھرمیت کابیٹا پیداہوگیاتو بھائی کے لئے وصیت صحیح ہوگئی۔(ت) شریفیہ میں فرمایا کہ باپ کی موجودگی میں میت کے بھائیوں کو مردوں کی طرح نہیں بنایاجائے گا اگرچہ باپ کے ہوتے ہوئے وہ وارث نہیں بنتے کیونکہ ان کے لئے وارث بننے کی اہلیت ثابت ہے مگر اس حالت میں وہ اس لئے وارث نہیں بنتے کہ ان کے وارث بننے کی شرط مفقود ہے یعنی باپ کی عدم موجودگی۔(ت) بلکہ عصبہ کا محجوب ہونا اس وجہ سے ہے کہ اصحاب فرائض نے اس کے لئے کچھ نہیں چھوڑا،اس کادخل عصبہ کو وارثوں کے زمرہ سے خارج کرنے میں زیادہ ہے بنسبت وارث اقرب کے وارث ابعد کومحجوب کرنے کے،کیونکہ وارث اقرب کے سبب سے ابعد کے محجوب ہونے میں شرط مفقود ہے جبکہ صورت مذکورہ میں عصبہ کے محجوب ہونے میں محل مفقود ہے۔اس لئے کہ عصبہ کے لئے وراثت کامحل نہیں سوائے اس مال کے جواصحاب فرائض سے باقی بچ جائے۔سراجیہ میں فرمایا کہ عصبہ اس شخص کوکہتے ہیں جو اصحاب فرائض سے بچا ہوا ترکہ لے لے الخ،یہ وہ ہے جو میرے پاس تھا اورحق کا علم میرے رب کے پاس ہے۔اﷲ سبحانہ،وتعالٰی خوب جانتا ہے۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع