30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الجواب:
|
برتقدیر عدم مانع ارث ووارث آخر بعدادائے مہرزوجہ وغیرہ ہرچہ دین ذمہ متوفی باشد ازباقی ماندہ ایك ثلث بے اجازت ورثہ وبیشتر ازاں بشرط اجازت وارثان بالغین نافذالتصرف بابن العم وصیۃً دہند ودوثلث مابقی یاکم ترازاں ہرچہ ماند برپانزدہ بخش قسمت کردہ سہ سہم بزوجہ ودوبوالدہ وشش بخواہر عینیہ ودوباخت علاتیہ ودوبہ برادر اخیافی رسانند ایں درصورتیست کہ ہمہ ورثہ اصحاء بالغین زیادت برثلث تاحد معین کم از کل مال روا داشتہ باشند۔واگرہیچ وارث اجازت ندادآنگاہ بعدادائے دیون بیش ازثلث بابن العم ندہند ودوثلث باقی تمام وکمال برہمہ حساب بورثہ بخشش نمایند واگرہمہ اجازت وصیت درجمیع مال دادند پس بعداخراج دیون ہرچہ ماند جملہ بابن العم رسانند واگربعض اجازت تمام وصیت دادند وبعض نے یابعض نابالغ باشند آنگاہ حصہ اجازت دہندگان ہم بابن العم دہند واگراجازت بعض در زیادہ برثلث بہرتمام وصیت نبود مثلًا دردوثلث تنفیذ |
میراث سے کسی مانع اور مذکورہ وارثوں کے علاوہ کسی وارث کے موجودنہ ہونے کی صورت میں بیوی کامہر وغیرہ جوبھی فرض متوفی کے ذمہ ہے اس کی ادائیگی کے بعد ترکہ کا ایك تہائی وارثوں کی اجازت کے بغیر اور اس سے زیادہ بالغ ورثاء جن کاتصرف نافذ ہوتاہے کی اجازت سے چچا کے بیٹے کو بطوروصیت دیں گے جبکہ باقی دوتہائی یااس سے کمترجتنا بھی بچاہے اس کو پندرہ حصوں پرتقسیم کرکے تین حصے بیوی کو، دوماں کو،چھ حقیقی بہن کو،دوعلاتی بہن کو اوردواخیافی بھائی کو دیں گے،یہ اس صورت میں ہے کہ تمام عاقل بالغ وارثوں نے ایك تہائی سے زائد کل مال سے کم معین حد تك کو جائزقراردیاہو۔اگرکسی وارث نے اجازت نہ دی توقرضوں کی ادائیگی کے بعد ایك تہائی سے زائد چچا کے بیٹے کو نہیں دیں گے اورباقی دوتہائی مکمل طورپرتمام وارثوں پران کے حصوں کے حساب سے تقسیم کریں گے،اگرتمام وارثوں نے کل مال میں وصیت کی اجازت د ے دی تو قرضوں کی ادائیگی کے بعد جوکچھ باقی بچا وہ ساراچچا کے بیٹے کو دیں گے،اگربعض وارثوں نے تمام وصیت کی اجازت دی اوربعض نے نہ دی یابعض ورثاء نابالغ ہوں تواجازت دینے والوں کاحصہ بھی |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع