30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
آفندی فقد اضطرب کلامھم کما تری فی مسألۃ الارث والظاھر انہ تارۃ ورد امر مع استثنائھا وتارۃ بدونہ[1] اھ ملخصًا۔ درردالمحتار است لیس لھذا(یعنی منع الدعوی للسکوت مع الاطلاع علی التصرفات)مدۃ محدودۃ واما عدم سماع الدعوی بعد مضی خمس عشرۃ سنۃ اذا ترکت بلاعذر فذاك فی غیر ھٰذہ الصورۃ [2]۔واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم۔ |
فتاوٰی سے نقل کیاہے،ان کے کلا میں جیسا تودیکھ رہاہے میراث کے بارے میں اضطراب پایاگیاہے بظاہر کبھی تواس کے استثناء کے ساتھ امرواردہوا اورکبھی بغیر استثناء کے۔ اھ ملخصًا۔(ت) ردالمحتارمیں ہے کہ اس کے لئے(یعنی تصرفات پرمطلع ہو کرچپ رہنے کی سے دعوٰی کی ممانعت کے لئے)کوئی مدت متعین نہیں ہے۔رہاپندہ سال کے گزرجانے کے بعد دعوٰی کی سماعت نہ ہونے کامعاملہ جبکہ بغیرعذرکے اس کوچھوڑاہوتو وہ اس صورت کے علاوہ میں ہے۔اﷲ سبحٰنہ وتعالٰی خوب جانتاہے۔(ت) |
مسئلہ ۹۹ : ازشہر چاٹگام موضع نیاپارہ مرسلہ مولوی قدرت اﷲ صاحب آخرربیع الاول ۱۳۲۱ھ
|
چہ می فرمایند علمائے دین دریں مسئلہ کہ شخصے وفات یافت یك زوجہ و والدہ ویك خواہر حقیقی ویك اُخت علاتی ویك برادر اخیافی ویك ابن العم گزاشت وجمیع مال وصیت برائے ابن العم کردہ بود،پس حکم وصیت چیست وتقسیم ترکہ چسان۔ بینوا توجروا۔ |
کیافرماتے ہیں اس مسئلہ میں کہ ایك شخص فوت ہوا اور وارثوں میں ایك بیوی،ماں،ایك حقیقی بہن،ایك علاتی بہن، ایك اخیافی بھائی اورایك چچاکابیٹاچھوڑا ہے جبکہ اس نے تمام مال کی وصیت چچا کے بیٹے کے لئے کردی تھی،اس وصیت کا حکم کیاہے اور ترکہ کی رقم تقسیم کیسے ہوگی؟ بیان کرو اجر پاؤگے۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع