30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
سماع الدعوی قال صاحب المنظومۃ اتفق اساتیذنا علی انہ لاتسمع دعواہ ویجعل سکوتہ رضا للبیع قطعا للتزویر والاطماع والحیل و التلبیس وجعل الحضوروترك المنازعۃ اقرارا بانہ ملك البائع[1]۔ ہمدران ست سئل فیما اذا ادعی زید علی عمرو محدود انہ مبلکہ ورثہ عن والدہ فاجابہ المدعی علیہ انی اشتریتہ من والدك وعمّك وانی ذوید علیہ من مدۃ تزید علٰی اربعین سنۃ وانت مقیم معی فی بلدۃ ساکت من غیر عذر یمنعك عن الدعوٰی ھل یکون ذٰلك
|
فتاوٰی میں ہے ایك ایسے شخص کے بارے میں سوال کیاگیا جس نے بائع کے زیرقبضہ زمین میں سے چھ ہاتھ زمین خرید کر اس کو تعمیرکیا اور اس میں تصرف کیا،پھربعدازاں ایك شخص نے تعمیر کرنے والے شخص مذکورپردعوٰی کردیا کہ اس فروخت شدہ زمین میں ساڑھے تین قیراط میرے ہیں جومجھے ماں کی میراث سے ملے ہیں،حالانکہ اس کی ماں عمارت بنانے اورانتفاع مذکورکے تصرف کودیکھتی رہی۔کیا اس کو ایساکرنے کاحق ہے یانہیں؟ توآپ نے جواب دیا اس کادعوٰی نہیں سناجائے گا کیونکہ ہمارے علماء نے اپنے متون،شروح اورفتاوٰی میں نص فرمائی ہے کہ خصم کے مطلع ہوتے ہوئے مبیع میں مشتری کاتصرف اگرچہ وہ اجنبی ہو جیسے عمارت بنانا،درخت لگانا اور کھیتی باڑی کرنا اس کے دعوٰی کی سماعت سے مانع ہوتاہے۔صاحب منظومہ نے کہاہمارے اساتذہ اس پر متفق ہیں کہ اس کادعوٰی نہیں سناجائے گا اوردھوکہ دہی، لالچ،حیلے اورفریب کے خاتمہ کے لئے اس کی خاموشی کو بیع کے ساتھ رضامندی قراردیاجائے گا۔اس کی بوقت بیع وہاں موجودگی اورمنازعت کے ترك کرنے کو |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع