30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ماذکر تسمع دعواہ ام لا۔اجاب لاتسمع دعواہ علی ماعلیہ الفتوٰی [1]۔درفتاوی علامہ خیرالدین رملی استاذ صاحب درمختار است سئل فی رجل اشتری من اخر ستۃ اذرع من ارض بید البائع وبنی بھا بناء وتصرف فیہ ثم بعدہ ادعی رجل علی البانی المذکور ان لہ ثلثۃ قراریط ونصف قیراط فی المبیع المذکور ارثا عن امہ والحال ان امہ تنظر یتصرف بالبناء والانتفاع المذکورین ھل لہ ذلك ام لا۔اجاب لاتسمع دعواہ لان علمائنا نصوا فی متونھم وشروحھم وفتاواھم ان تصرف المشتری فی المبیع مع اطلاع الخصم ولوکان اجنبیا بنحوالبناء والغرس والذرع یمنعہ من |
سماعت ہوسکے گی اور اگربادشاہ اس کے برعکس حکم دے تومسئلہ کی صورت بھی برعکس ہوجائےگی۔اس مقام پریہ نفیس تحقیق ہے اورتوفیق اﷲ تعالٰی ہی کی طرف سے ہوتی ہے۔اس مسئلے سے متعلق میں نے اپنے فتاوٰی کی کتاب القضاء اور کتاب الدعاوی میں قدرے تفصیل سے گفتگو کی ہے۔اور یہاں پربطور خلاصہ چندعبارتوں پرقناعت اختیارکرناطوالت کاراستہ اپنانے سے بہترہے۔علامہ ا بوعبداﷲ محمد بن عبیداﷲ غزی تمرتاشی مصنف تنویرالابصار کے فتاوٰی میں ہے کہ ایك ایسے شخص کے بارے میں سوال کیاگیاجس کے پاس کسی گھر کا ایك کمرہ ہے جس میں رہتے ہوئے اس کوتین سال سے زائد عرصہ ہوچکاہے۔اس گھر کی ایك جانب شخص مذکور کا ایك پڑوسی رہتاہے اور شخص مذکوراس کمرے میں جس کا ذکرگزرچکاہے عمارت و تعمیر وغیرہ کاتصرف تین سالہ مدت میں کرتارہا جس پراس کاپڑوسی آگاہ تھا۔کیا مدت مذکورہ کے بعد اگروہ پڑوسی اس کمرے پردعوٰی کرے تو اس کادعوٰی سنا جائے گا یانہیں؟ آپ نے جواب دیامفتٰی بہ قول کے مطابق اس کادعوٰی نہیں سناجائے گا۔صاحب درمختار کے استاد علامہ خیر الدین رملی کے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع