30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
سماع الدعوی بعد ھذہ المدۃ ان یسمعھا بنفسہ او یامر بسماعھا کی لایضیع حق المدعی والظاھر ان ھذا حیث لم یظھر عن المدعی امارۃ التزویر[1]۔مخفی مبادہ روایات فقہیہ کہ درباب عدم سماع دعوٰی ب عد ازمرورپانزدہ سال یاسی سال یاسی وسہ سال یاسی و شش سال وارد مخصوص بصورتے ست کہ دعوی متضضمن برعلامت تزویر یاحیلہ باشد چنانچہ ازعبارات ردالمحتار وغیرہ مفہوم می شود وھذا حکم الکتاب واﷲ تعالٰی اعلم بالصواب والیہ المرجع والمآب۔ |
قاضیوں کودعوی کی سماعت سے منع کیا ہے خود اس پرواجب ہے کہ وہ بذات کود دعوی کی سماعت کرے یا اس کی سماعت کا حکم دے تاکہ مدعی کاحق ضائع نہ ہو۔ظاہریہی ہے کہ یہ حکم اس صورت میں ہے جب مدعی کی طرف سے دھوکہ بازی کی کوئی علامت ظاہرنہ ہو۔پوشیدہ نہ رہے کہ پندرہ سال،تیس سال،تینتیس سال یاچھتیس سال گزرنے کے بعد دعوی کی سماعت نہ کرنے سے متعلق فقہی روایات اس صورت کے ساتھ مخصوص ہیں کہ دعوی دھوکہ دہی اورحیلہ سازی کی علامات کومتضمن ہوجیساکہ ردالمحتار وغیرہ کی عبارتوں سے معلوم ہوتاہے۔یہ کتاب کاحکم ہے،اﷲ تعالٰی خوب جانتاہے اور اسی کی طرف کرآناہے۔(ت) |
الجواب:
|
اللھم ھدایۃ الحق والصواب ایں جادومقام ست یکے نفس الامر وابانت حکمش ہمان ست کہ ہیچ حق ثابت نامقید بوقتے خاص ارث باشد خواہ غیر اومطلقًا اجماعًا بتقادم زمان زنہار ساقط نشود چنانکہ درجوھرہ واشباہ وغیرہما |
اسے اﷲ حق اوردرستگی کی ہدایت عطافرما،اس جگہ دومقام ہیں،مقام اول نفس الامر،اس کے حکم کی وضاحت یہ ہے کہ کوئی ثابت حق جو کسی خاص وقت کے ساتھ مقید نہ ہوچاہے میراث ہو یاکوئی اور مطلقًا بالاتفاق زیادہ عرصہ کے گزرنے سے ہرگز ساقط نہیں ہوتا،جیسا کہ جوہرہ اوراشباہ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع