30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
دو صلبہ نیست بلکہ بایك صلبیہ وبے صلبیہ نیزحکم ہمیں ست فی ردالمحتار للبنات ستۃ حوال ثلٰثۃ تتحقق فی بنات الصلب وبنات الابن وھی النصف للواحدۃ والثلثان لاکثر واذا کان معھن ذکر عصبھن [1]۔درسراجیہ و شریفیہ فرماید العصبۃ بغیرہٖ اربع من النسوۃ البنت و بنت الابن والاخت لاب و ام والاخت لاب یصرن عصبۃ باخوتھن[2]۱ھ مختصرا۔پس برتقدیر تعصیب لازم آید کہ درمسئلہ زوج و بنت وبنت الابن وابن ابن الاخ مسئلہ ازدوازدہ باشد سہ بشوہر وشش بدختروسہ باقی درعصبتین للذکرمثل حظ الانثیین کما ھو مصرح بہ فی جمیع الکتب فی مسئلۃ تعصیب بنت الابن بغلام معھا او اسفل منھا۔پس بنت الابن را یك باشد و |
پوتیوں کوعصبہ بنانا دو۲صلبی بیٹیوں کے موجودہونے کے ساتھ مختص نہیں بلکہ ایك صلبی بیتی ہویاکوئی صلبی بیٹی نہ ہوتب بھی حکم یہی ہے۔ردالمحتارمیں ہے:بیٹیوں کے چھ حال ہیں جن میں سے تین صلبی بیٹیوں اورپوتیوں میں متحقق ہوتے ہیں،اور وہ یہ ہیں اکیلی ہو تونصف،ایك سے زائد ہوں تو دو تہائی،اوراگران کے ساتھ کوئی مذکرہوتو وہ ان کوعصبہ بنائے گا۔سراجیہ اورشریفیہ میں فرماتے ہیں:عصبہ بغیرہٖ چار عوتیں ہیں:بیٹی،پوتی،عینی بہن اورعلاتی بہن۔یہ اپنے بھائیوں کے ساتھ عصبہ بن جاتی ہیں اھ اختصارا۔پس عصبہ بنانے کی تقدیر پرلازم آتاہے کہ خاوند،بیٹی،پوتی اوربھائی کاپوتا چھوڑنے کی صورت میں مسئلہ بارہ سے ہو،جس میں سے تین خاوند کو، چھ بیٹی کو اورباقی تین دوعصبوں میں اس طرح تقسیم ہوں کہ مذکرکاحصہ دومؤنثوں کے حصے کے برابر ہو، جیسا کہ برابر والے لڑکے یانچلے درجے والے لڑکے کی وجہ سے پوتیوں کے عصبہ بن جانے والے مسئلہ میں تمام کتابوں میں اس کی تصریح کردی گئی ہے،چنانچہ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع