30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
لابن الاخ [1]الخ وفیہ مسائل اخرٰی من ھٰذا النوع۔ سادسًا:اگرابن الاخ حاجب بود اخ کہ اقرب ازدست اولٰی باوست وایں ہم باطل ست باجماع وفی حل المشکلات اذا مات رجل وترك اخاوبنت ابن فالمسئلۃ من اثنین لان فیھا نصفا ومابقی فالنصف لبنت الابن ومابقی للاخ۔[2] سابعًا:ایں تعصیب اگربودے نبودے وشیئ چوں وجود او مستلزم عدم او باشد محال بودبیان ملازمت آنکہ درعصبات اصل مطرد آنست کہ جزء میت مقدم برجزء پدراوست پس ابن ابن الاخ اگربنت الابن راعصبہ نمودی بنت الابن او را محجوب فرمودے وچوں محجوب میشد تعصیب کہ میکرد،فھٰذا شیئ لوکان لم یکن وای محال اب عد منہ۔ ثامنًا:تعصیب محاذ یہ مختص بوجود |
اوربقیہ بھتیجے کوملے گا الخ حل المشکلات میں اس نوعیت کے دیگرمسائل بھی ہیں۔(۱؎ حل المشکلات) چھٹی دلیل:اگربھتیجا حاجب ہوتاہے اولٰی حاجب بنے گا۔اوریہ بھی بالاجماع باطل ہے۔حل المشکلات میں ہے جب کوئی مرد ایك بھائی اورایك پوتی چھوڑ کرفوت ہوجائے تومسئلہ دو۲ سے بنے گا کیونکہ اس مسئلہ میں نصف اوربقیہ ہے،چنانچہ نصف پوتی کو اوربقیہ بھائی کوملے گا۔ ساتویں دلیل:یہ عصبہ بنانا اگرچہ موجود ہوتا تومعدوم ہوتا۔ اورجس شیئ کاوجود اس کے عدم کوچاہے وہ شیئ محال ہوتی ہے۔ملازمہ کابیان یہ ہے عصبوں کے اندریہ قاعدہ کلیہ جاری ہے کہ میت کی جزئ اس کے باپ کی جزئ پرمقدم ہوتی ہے۔لہٰذابھائی کاپوتا اگرمیت کی پوتی کوعصبہ بناتاتو وہ پوتی اس کو میراث سے محروم کردیتی۔اورجب وہ خود محروم ہوجاتا تو عصبہ کیونکر بناتا؟ یہ ایك ایسی شیئ ہے کہ اگرموجود ہوتو معدوم ہوگی اور اس سے بڑھ کرکون سا محال ہوگا؟ آٹھویں دلیل:کسی پوتے کااپنی برابروالی |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع