30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
او را عصبہ کند واجب شد کہ ابن الاخ کہ بالاترازوست بنت الابن رااز میراث افگند اگرچہ درانجا صلبیہ ہیچ نبود کہ سقوط سفلیات بغلام عالی عام ومطلق ست از درمختار شنیدی ویسقط من دونہٖ وخوددرمسئلہ تشبیب کہ لاشیئ للسفلیات گفتہ اند فرض مسئلہ بے صلبیات ست و خودپیداست کہ چوں کارتعصیب کشد اقرب حاجب ابعد بود حالانکہ ایں معنی مخالف اجماع است حجب بنات الابن ہمیں بہ ابن ودوصلبیہ نوشتہ اند نہ بابن الاخ وعلامہ انقروی درحل المشکلات کہ خود اوتاریخ تالیفش قد حل المشکلات۹۶۴ فرمودہ است م ی نگارد اذا مات رجل وترك ابن اخ وزوجۃوبنت ابن فالمسئلۃ من ثمانیۃ لان فیھا ثمنا ونصفا ومابقی فالثمن للزوجۃ والنصف لبنت الابن ومابقی |
محاذی(برابر درجے میں)ہے اس کو عصبہ بنادے توضروری ہوگا کہ بھائی کابیٹا جو پوتے سے اوپردرجے میں ہے پوتی کو میراث سے خارج کردے اگرچہ وہاں کوئی صلبی بیٹی موجود نہ ہو کیونکہ نچلے درجے والیوں کا اوپر کے درجے والے لڑکے کی وجہ سے ساقط ہوجانا عام اورمطلق ہے۔درمختارسے توسن چکا ہے کہ لڑکا اپنے سے نچلے درجے والی کوساقط کردیتاہے۔ خود مسئلہ تشبیب جس کوفرض ہی صلبی بیٹیوں سے خالی کیاگیا ہے میں کہاگیا ہے کہ نچلے درجے والیوں کو کچھ نہیں ملے گا۔یہ خودظاہرہے کہ جہاں عصبہ بنانے کی کاروائی ہوتی ہے وہاں قریب والا دور والے کے لئے حاجب ہوتاہے حالانکہ یہ معنیئ اجماع کے خلاف ہے۔پوتیوں کامیراث سے محروم ہونا بیٹے اور دوصلبی بیٹیوں کی وجہ سے ہی مشائخ نے تحریر فرمایا ہے نہ کہ بھتیجے کی وجہ سے۔علامہ انقروی حل المشکلات میں لکھتے ہیں جس کی تاریخ تالیف خود انہوں نے قدحل المشکلات (تحقیق مشکلیں حل ہوگئیں)فرمائی ہے۔جب کوئی مرد فوت ہو اور اس نے ایك بھتیجا،ایك بیوی اورایك پوتی چھوڑی ہو تو مسئلہ آٹھ سے بنے گا کیونکہ اس مسئلہ میں آٹھواں حصہ، نصف اوربقیہ ہے،چنانچہ آٹھواں حصہ بیوی کو،نصف پوتی کو |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع