30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
قال فی السراجیۃ ؎ ولیس ابن الاخ بالمعصب من مثلہ اوفوقہ فی النسب بخلاف ابن الابن وان سفل فانہ یعصب من مثلہ او فوقہ ممن لم تکن ذات سھم ویسقط من دونہ[1]۔ امام سمعانی درخزانۃ المفتین متصل بہ عبارت مذکورہ بالا فرماید والباقی العصبات ینفرد بالمیراث ذکورھم دون اخواتہم وھم اربعۃ ایضا العم وابن العم وابن الاخ وابن المعتق۔[2] خامسًا:اگرمراد بوقوع غلام بمحاذات بنات یا بالا یافرودوقوع او درہمیں سلسلہ نسب ست کہ نوعیت انتساب متبدل نگرد وکما ھو الحق المبین بجزم و یقین پس آنگاہ ابناء اخ راخود مساعی نیست کہ ایں جاسخن درجئز میت ست واوجزء پدرمیت و اگرمراد اعم گیرند تاابن ابن الاخ کہ بمحاذات درجہ بنت الابن ست |
کہ سراجیہ میں کہاہے:بھتیجا عصبہ بنانے والانہیں ہے۔نہ اپنی مثل کونہ اس کوجونسب میں اس سے اوپرہے۔بخلاف پوتے کے اگرچہ وہ نیچے تك ہو وہ اپنی مثل اوراپنے سے اوپروالیوں کوعصبہ بنادیتاہے جبکہ وہ ذی فرض نہ ہوں اور اس سے نیچے والیاں ساقط ہوجاتی ہیں۔امام سمعانی خزانۃ المفتین میں عبارت مذکورہ کے متصل فرماتے ہیں:باقی عصبات وہ ہیں جن کے مذکر تنہا میراث پاتے ہیں ان کی بہنیں میراث نہیں پاتیں،وہ بھی چار ہیں:(۱)چچا(۲)چچا کابیٹا(۳)بھتیجا(۴)آزاد کرنے والے کابیٹا۔ پانچویں دلیل:اگربیٹیوں کے برابر یااوپر کے درجے میں یانیچے کے درمے میں لڑکے کے واقع ہونے سے مراد اسی سلسلہ نسب میں اس کاواقع ہوناہے کہ انتساب کی نوعیت میں تبدیلی نہ آئے جیسا کہ یہی حق ہے،اورجزم ویقین کے ساتھ ظاہرہے،تو اس صورت میں بھتیجوں کی یہاں کوئی گنجائش نہیں کیونکہ گفتگو یہاں میت کی جزء میں ہے جبکہ بھتیجا میت کے باپ کی جزہے۔اوراگراس سے مرادعام لی جائے تاکہ بھائی کاپوتا جومیت کی پوتی کے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع