30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
صلبیات باشند چیزے نیابند مطلقًا مگر صورت واحدہ کہ باایشاں فافروتر ازیں شان مردے از اولاد پسرمیت باشد۔ علامہ ابوعبداﷲ محمد بن عبیداﷲ غزی تمرتاشی درتنویرالابصار متن الادرالمختار فرمود اذا استکمل البنات فرضھن سقط بنات الابن الا بتعصیب ابن ابن مواز اونازل [1] علامہ ابراھیم حلبی درملتقی الابحر کہ ازمتون معتمدہ فی المذہب ست فرماید اذا استکمل بنات الصلب الثلثین سقط بنات الابن الا ان یکون بحذائھن اواسفل منھن ابن ابن فیعصب من بحذائہ ومن فوقہ من لیست بذات سھم وتسقط من دونہ[2]۔علامہ محمد بن حسین بن علی طوری درتکملہ بحرائق فرماید ان کان للمیت ابنتان فلا شیئ لبنت الابن الا ان یکون |
درجے میں ہو۔پس جب دو۲ یا دو۲ سے زائد میت کی صلبی بیٹیاں موجود ہوں تو پوتیاں بالکل کچھ نہیں پاتیں سوائے ایك صورت کے کہ ان کے ساتھ یا ان کے نیچے کے درجے میں میت کے بیٹے کی اولاد سے کوئی مرد موجود ہو۔علامہ ابو عبد اﷲ محمد بن عبیداﷲ غزی تمرتاشی نے درمختار کے متن تنویر الابصار میں فرمایا جب بیٹیاں اپنا فرضی حصہ مکمل طورپرلے لیں تو پوتیاں ساقط ہوجاتی ہیں سوائے اس کے کہ ان کے برابر یا ان سے نیچے کے درجے کاکوئی پوتا انہیں عصبہ بنادے۔ علامہ ابراہیم حلبی ملتقی الابحر جو کہ مذہب کے قابل اعتماد متون میں سے ہے فرماتے ہیں جب صلبی بیٹیاں دوتہائی مال مکمل طورپرلے لیں تو پوتیاں ساقط ہوجاتی ہیں سوائے اس کے کہ ان کے برابر یا ان کے نیچے کے درجے میں کوئی پوتا موجود ہو تو وہ پوتا اپنے برابر والیوں کو اوراپنے سے اوپروالیوں کو جو کہ ذی فرض نہ ہوں عصبہ بنادیتاہے،اور اس پوتے سے نیچے کے درجے والیاں ساقط ہوجاتی ہیں۔علامہ محمدبن حسین بن علی طوری بحرالرائق کے تکملہ میں فرماتے ہیں اگرمیت کی دو بیٹیاں ہوں تو پوتیوں کے لئے کچھ نہیں ہوگا سوائے اس کے کہ ان پوتیوں |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع