30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اختیار شرحمختار سے طریق اول نقل فرمایا وﷲ الحمد واﷲ تعالٰی اعلم۔
فصل پنجم
مسئلہ ۹۷:ازکلکتہ مولوی امداد علی لین نمبر۱ مرسلہ مولوی عبدالعزیز صاحب بنگالی منتہی طالب علم مدرسہ عالیہ کلکتہ ۹جمادی الاولٰی ۱۳۱۴ھ
|
ماقولکم رحمکم اﷲ تعالٰی اندریں کہ شخصے بحضوریك زوجہ وسہ بنت وسہ۳ بنت الابن ودو ابن ابن الاخ اموال گزاشتہ پیك اجل رالبیك گت پس ترکہ اش درمیان ورثہ مذکورین چگونہ منقسم خواہد شد بینواتوجروا۔ |
اے علماء کرام اﷲ تعالٰی آپ پررحم فرمائے اس شخص کے بارے میں آپ کا کیا ارشاد ہے جس نے ایك بیوی،تین بییٹیوں،تین پوتیوں اوربھائی کے دوپوتوں کی موجودگی میں مال چھوڑ کرموت کے پیغام کو لبیك کہا۔پس اس کاترکہ مذکورہ وارثوں کے درمیان کس طرح تقسیم ہوگا؟ بیان کرواجرپاؤگے۔(ت) |

|
جناب من! حد ادب،پس ازسلام سنت خیرالانام عرض بخدام برتر مقام میگزارم کہ برصورت مرقوم بالا دریں صوبہ بنگلہ اختلافات شتٰی رددادہ کہ بنت الابن یا ابن ابن الاخ عصبہ تواند شد یاچہ؟ ازدلائل ردالمحتار وشریفیہ معلوم شد کہ بنات الابن چنانچہ بابرادر عینی خودعصبہ شوند ہمبران نسق بابن عم خود ہم عصبہ شوند وایشاں ھم بنی عم ایں زمان اند پس مستحق باقی مال زید تواندشد |
میری سرکار! بے حد ادب،اور تمام مخلوق سے بہترشخصیت کی سنت کے مطابق بارگاہ عالی میں سلام عرض کرنے کے بعد گزارش کرتاہون کہ مزکورہ بالا صورت میں صوبہ بنگال میں متعدد اختلاف رونماہوکچے کہں کہ میت کی پوتی یامیت کے بھائی کاپوتا عصبہ ہوسکتے ہیں یاکیاصورت ہے؟ رِدّالمحتار اور شریفیہ کے دلائل سے معلوم ہوا کہ پوتیاں اپنے عینی بھائی کے ساتھ عصبہ ہوجاتی ہیں،اسی طرح اپنے چچا کے یٹے کے ساتھ بھی عصبہ ہوجاتی ہیں۔وہ بھی اس وقت |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع