30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
حال حیاتہ اصلا بل بعد وفاتہ[1]۱ھ فی ردالمحتارای لانھا قبل ثبوت الحق لھم لان ثبوتہ عندالموت فکان لھم ان یردوہ بعد وفاتہ بخلاف الاجازۃ بعد الموت لانہ بعد ثبوت الحق وتمامہ فی المنح[2]۔ |
زندگی میں بالکل معتبرنہیں بلکہ اس کی وفات کے بعد معتبر ہوتی ہے الخ۔ردالمحتار میں ہے اس لئے کہ وہ اجازت وارثوں کے حق کے ثبوت سے قبل ہے کیونکہ ان کے حق کاثبوت موصی کی موت کے وقت ہوتاہے لہٰذا وہ موصی کی وفات کے بعد اس اجازت کو رَد کرسکتے ہیں بخلاف اس اجازت کے جو موصی کی موت کے بعد ہوئی کیونکہ وہ ثبوت حق کے بعد ہے۔اس کی پوری بحث منح کے اندرہے۔(ت) |
البتہ وہ وقف کہ اس نے اپنے مرض میں فی الحال کردیا اگروارث سے حیات مورث ہی میں اس کی اجازت پائی گئی جب بھی نافذوتام ہوگیا کہ بعد موتِ مورث اب وارث اسے رد نہیں کرسکتا۔
|
فی ردالمحتار من البزازیۃ تعتبر الاجازۃ بعد الموت لاقبلہ ھذا فی الوصیۃ اما فی التصرفات المفیدۃ لاحکامھا کالاعتاق وغیرہ اذا صدرفی مرض الموت و اجازہ الوارث قبل الموت لاروایۃ فیہ عن اصحابنا قال الامام علاء الدین السمرقندی اعتق المریض عبدہ ورضی بہ الورثۃ قبل الموت لایسعی العبد فی شیئ |
رِدّالمحتارمیں بزازیہ سے منقول ہے کہ موت کے بعد کی اجازت معتبرہے نہ کہ پہلے کی۔یہ وصیت کے بارے میں ہے۔رہے وہ تصرفات جواپنے حکم کافائدہ دیتے ہیں جیسے آزاد کرنا وغیرہ جب یہ مرض الموت میں صادرہوں اورموت سے پہلے وارث اجازت دے دے توہمارے اصحاب سے اس بارے میں کوئی روایت موجودنہیں۔امام علاء الدین سمرقندی نے کہا کہ کسی مریض نے اپناغلام آزادکردیا اور موت سے پہلے وارثوں نے اس پررضامندی ظاہر کردی تووہ غلام کسی شیئ میں سعی نہیں کرے گا۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع