30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
والعلم بالحق عند ربی۔ |
اگروہ صحیح ہوتا جومریض نے کیاہے توالبتہ کہاجاتاکہ جوکچھ مریض نے کیاہے وہ صحیح ہے۔اورحق حاصل ہوگیا ہے نہ یہ کہ وہ باطل ہوگیاہے،یہ وہ ہے جومیرے پاس ہے او رحق کا علم میرے ر ب کے پاس ہے۔(ت) |
یہ نفس مسئلہ صلح وارث بحیات مورث کی تحقیق تھی جس سے سائل نے علٰی وجہ الاطلاق سوال کیا۔رہی یہ صورت خاصہ کہ یہاں واقع ہوئی اسے مسئلہ صلح وتخارج سے علاقہ ہی نہیں یہاں صلح ایك سوچالیس روپے پرواقع ہوئی اور ترکہ میں روپے زائد تھے اورروپے کے حق سے کم روپوں پرتخارج قطعًا باطل ہے اگرچہ بعد موت مورث ہو۔
|
فی الدرالمختار فی اخراجہ عن نقدین وغیرھما باحد النقدین لایصلح الا ان یکون مااعطی لہ اکثر من حصتہ من ذٰلك الجنس تحرزاعن الربا[1]۔ |
درمختارمیں ہے نقدین(سونے چاندی)میں سے کسی ایك کے بدلے میں کسی وارث کونقدین وغیرہ سے خارج کرناصحیح نہیں مگر اس وقت کہ جوکچھ اس وارث کودیاگیاہے وہ اسی جنس میں سے اس کے استحقاقی حصے سے زائد ہو تاکہ سود سے بچاؤ ہوجائے۔(ت) |
تو یہ تخارج ہوتاتویقینا باطل ہوتا مگریہاں دوسرا وارث کوئی ہے ہی نہیں،نہ کوئی موصٰی لہ تھا جس سے مبادلہ ٹھہرے تویہاں صلح وتخارج ومبادلہ کودخل ہی نہیں اس کاحاصل صرف اتناہے کہ "میراث سے میں نے اتنے روپے لے لئے باقی ترکہ سے مجھے تعلق نہیں"۔یہ نہ کوئی عقدشرعی ہے نہ ایك مہمل وعدہ سے زائد کچھ معنی رکھتاہے تمام ترکہ میں بدستور اس کاحق باقی ہے تصرفات مذکورہ زیدبے اس کی اجازت کے ثلث سے زائد میں نافذ نہیں ہوسکتے بلکہ ان میں جووصایا تھیں ان کی اجازت تو بحال حیات موصی مفیدہی نہیں اگرچہ وارث نے صراحۃً اس وقت کہہ دیاہوکہ میں نے ان وصیتوں کونافذ کیاجائز رکھانہ اسے ان تصرفات زید کی اجازت معتبرہ ٹھہراسکتے ہیں جو اس گفتگو کے بعد زید سے واقع ہوئے کہ ان میں جووصایا تھیں ان کی اجازت کاتوحیات موصی میں کوئی محل ہی نہیں۔
|
فی الدرالمختار لاتعتبر اجازتھم |
درمختارمیں ہے کہ وارثوں کی اجازت موصی کی |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع