30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
رضی الورثۃ جمیعا بعد موت المورث لا رضی المصالح وحدہ فان التخارج مبادلۃ بینھم فلابد من رضاھم جمیعا لاسیما اذا کان الذی عُیِّن لہ ازید من حقہ و کانہ لحظ الٰی ان التعیین لواحد علٰی ان لایکون لہ فی سائر الترکۃ شیئ انما یکون غالبًا باقل من حقہ اوما یساویہ ولیس فیہ مایقتضی عدم رضی سائر الورثۃ فاقتصر علٰی ذکر اشتراط رضاہ وحدہ واﷲ تعالٰی اعلم ،فان قلت لم لایجوز ان یحمل کلام محمد محرر المذھب رحمہ اﷲ تعالٰی علٰی بطلان الحق قلت کلا فان الارث جبری لایسقط باسقاط وکیف یسوغ ابطال مااثبتہ اﷲ تعالٰی فی کتابہ والتخارج مبادلۃ لا اسقاط والمبادلۃ تقرر الحق وتثبتہ لاتبطلہ فلو صح ما فعل المریض لقیل صح مافعل و الحق حصل لا ان بطل ھذا عندی |
علاوہ میرے نزدیك مورث کے مرنے کے بعد تمام وارثوں کی رضامندی ضروری ہے نہ کہ تنہا صلح کرنے والے کی رضامندی۔کیونکہ تخارج وارثوں کے درمیان باہمی تبادلہ ہے لہٰذا ان سب کی رضامندی ضروری ہے خصوصًا اس صورت میں جب مذکورہ بالا وارث کے لئے اس کے حق سے زائد کی تعیین کردی گئی ہو۔گویا اس بات کوملحوظ رکھاگیاہے کہ کسی ایك وارث کے لئے تعیین اس شرط پرہوگی کہ ترکہ میں سے اس کے لئے کچھ نہیں ہوگا۔غالبًا یہ تعیین اس کے حق سے کم ترمیں یا اس کے حق کے مساوی میں ہی ہوتی ہے، حالانکہ اس میں کوئی ایسی چیز نہیں جوباقی ورثاء کی عدم رضا کا تقاضا کرتی ہو۔چنانچہ اکیلے اس وارث کی رضامندی کے شرط ہونے کے ذکرپر اکتفاء کیاگیاہے۔اوراﷲ تعالٰی خوب جانتاہے اگرتوکہے کہ محرر مذہب امام محمد رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ کے کلام کوبطلان حق پرمحمول کرنا کیوں جائزنہیں؟ تومیں کہوں گا ہر گزنہیں کیونکہ وارث بنناجبری امرہے جوساقط کرنے سے ساقط نہیں ہوتا۔توجس چیز کواﷲ تعالٰی نے اپنی کتاب میں ثابت فرمایا اس کوباطل کرناکیسے جائزہوگا، اور تخارج باہمی تبادلہ ہے نہ کہ کسی حق کوساقط کرنا۔اور باہمی تبادلہ حق کوثابت کرتاہے نہ کہ اس کو باطل کرتاہے۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع