30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
المشائخ مع مافی الخط من شبھۃ تنزلہ عن مرتبۃ الاشارۃ فضلا من العبارۃ فعندی فیما ذکر الحموی فی الغمز من احکام الکتابۃ یجوز الاعتماد علٰی خط المفتی اخذا من قولھم یجوز الاعتماد علٰی اشارتہ فالکتابۃ اولٰی [1]۱ھ نظر فی الاخذ وان قلنا بجواز الاخذ بہ عند حصول الامن و رکون القلب ولذا اجمعوا علٰی جواز النقل من الکتب المعتمدۃ المعروفۃ المتداولۃ کما افادہ فی الفتح فمع قطع النظر من کل ذلك لم یکن لہ بجنب نص محمد فی ظاھر الروایۃ قیام علٰی ساق مع مافیہ من عدم التئامہ بقواعد المذھب علی الاطلاق نعم ماذکر فی الجواھر محمل حسن وبہ یدنو من التحقیق ویزول القلق ویحصل التوفیق بیدان الواجب عندی |
جیسا کہ تونے جان لیا باوجودیکہ خط میں شبہہ ہوتاہے تویہ اشارہ کے مرتبہ سے بھی گرجائے گا چہ جائیکہ عبارت(کے برابرہو)چنانچہ میرے نزدیك اس میں جس کوامام حموی نے احکام کتابت سے غمز میں ذکرکیاہے کہ مفتی کے خط پراعتماد جائزہے۔مشائخ کے اس قول سے اخذ کرتے ہوئے کہ مفتی کے اشارے پراعتماد جائزہے تو کتابت پربدرجہ اولٰی جائز ہوگاالخ اس اخذمیں نظرہے،اگرچہ ہم حصول امن اور میلان قلبی کے وقت اس کے ساتھ اخذ کے جواز کے قائل ہیں،یہی وجہ ہے کہ مشہور ومروج اورقابل اعتماد کتابوں سے نقل کے جوازپر مشائخ نے اجماع کیاہے جیسا کہ فتح میں اس کا افادہ فرمایاہے،اس تمام سے قطع نظر کرتے ہوئے یہ قول ظاہر الروایہ میں مذکور امام محمدعلیہ الرحمۃ کی نص کے مقابل اپنی پنڈلی پرقائم نہیں ہوسکتا۔اس کے باوجود اس میں علی الاطلاق مذہب کے قواعد کے ساتھ مطا بقت بھی نہیں ہے۔ہاں جو جواہرمیں ہے وہ ایك اچھامحمل ہے،اوراسی کے ساتھ یہ تحقیق کے قریب ہوجاتاہے اوراضطراب زائل ہوجاتاہے اور مطابقت وموافقت حاصل ہوجاتی ہے۔اس کے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع