30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
قال فی جامع الرموز اعلم ان الناطقی ذکر عن بعض اشیاخہ ان المریض اذاعین الواحد من الورثۃ شیئا کالدار علی ان لایکون لہ فی سائر الترکۃ حق یجوز وقیل ھذا اذرضی ذلك الوارث بہ بعد موتہ فحینئذٍ یکون تعیین المیت کتعیین باقی الورثۃ معہ کما فی الجواھر[1]۱ھ ونقلہ فی اوائل وصایا ردالمحتار وزاد ان حکی القولین فی جامع الفصولین فقال قیل جازوبہٖ افتی بعضھم وقیل لاانتھی [2]۱ھ۔ولم یجنح لحکایۃ ماقدمہ فی جامع الفصولین عن السیر الکبیرمع انہ کان ھو العمدۃ فی الباب فان ماذکر من الجواز افتاء البعض لولم یکن مستندہ کما علمت الٰی خط بعض |
وارث اس صلح پررضامندی ظاہرکردے،جامع الرموز میں کہاتوجان لے امام ناطفی نے اپنے بعض مشائخ سے ذکرکیاکہ مریض جب کسی ایك وارث کے لئے کوئی شے معین کردے مثلًا گھر ا س شرط پرکہ باقی ترکہ میں اس کاکوئی حق نہیں ہوگا تو جائزہے۔اور کہاگیا ہے کہ یہ اس وقت جائزہوگا جب مریض کے مرنے کے بعد وہ وارث اس پررضامندی ظاہرکرے تواس صورت میں میت کامعین کرنا ایسے ہی ہے جیسے اس کے ساتھ باقی وارثوں نے تعیین کی ہو۔جیسا کہ جواہرمیں ہے الخ۔اس کورِدالمحتار کے وصایا کے شروع میں نقل کیااوریہ زائد کیاکہ ان دونوں قولوں کوجامع الفصولین میں نقل کیا ہے،اورکہا ہے کہ ایك قول میں کہاگیاہے کہ یہ جائزہے اور اسی پربعض مشائخ نے فتوٰی دیاہے۔اورایك قول یہ ہے کہ جائز نہیں ہے الخ اورماقبل جامع الفصولین میں بحوالہ سیر کبیر ذکرکردہ حکایات کی طرف میلان نہیں کیا حالانکہ اس باب میں وہ عمدہ ہے کیونکہ جواز اوربعض مشائخ کے فتوٰی کا ذکر اگربعض مشائخ کے خط کی طرف منسوب نہ ہو |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع