30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
علی ان لایکون لہ بعد موت الاب میراث قیل جاز وبہ افتی بعضھم وقیل لا[1]۱ھ،وقال فی فرائض الاشباہ و النظائر قال الشیخ عبدالقادر فی الطبقات فی باب الھمز فی احمد قال الجرجانی فی الخزانۃ قال ابو العباس الناطفی رأیت بخط بعض مشائخنا رحمھم اﷲ تعالٰی فی رجل جعل لاحد ابنیہ دارابنصیبہ علی ان لایکون بعد موت الاب میراث جازوافتی بہ الفقیہ ابوجعفر محمد بن الیمانی احد اصحاب محمد بن الشجاع البلخی وحکی ذلك اصحاب احمد بن ابی الحارث وابوعمر والطبری [2] انتھی ۱ھ۔ قال فی غمز العیون یتامل فی وجہ صحۃ ذٰلك فانہ خفی [3]۱ھ والثالث الجواز اذا رضی بہ الوارث بعد ماورث |
میں سے ایك کو اس کے حصے کاگھر اس شرط پردیاکہ باپ کی موت کے بعد اس کے لئے میراث نہیں ہوگی۔ایك قول میں کہاگیاہے کہ یہ جائزہے اور اسی پربعض مشائخ نے فتوٰی دیا ہے۔اورایك قول میں ہے کہ جائزنہیں ہے۔الخ۔الاشباہ و النظائر کی کتاب الفرائض میں کہا کہ شیخ عبدالقادر نے طبقات کے باب الہمز فی احمد میں فرمایا،جرجانی نے خزانہ میں کہا کہ ابوالعباس ناطفی نے فرمایا میں نے اپنے بعض مشائخ رحمہم اﷲ تعالٰی کی وہ تحریر دیکھی جو اس شخص کے بارے میں ہے جس نے دو بیٹوں میں سے ایك کو اس کے حصے کامکان اس شرط پر دیاکہ باپ کی موت کے بعد اس کے لئے میراث نہیں ہوگی تویہ جائزہے۔اسی پرفقیہ ابوجعفر محمدبن الیمانی نے فتوٰی دیا جوکہ محمدبن شجاع بلخی کے شاگردوں میں سے ایك ہیں۔احمد بن ابوحارث اورابوعمروطبری کے شاگردوں نے اس کونقل کیاہے۔انتہٰی۔غمزالعیون میں کہا اس کی صحت کی وجہ میں غورکرنا چاہئے کیونکہ یہ پوشیدہ ہے الخ۔اورتیسری قسم یہ ہے کہ صلح اس صورت میں جائزہوگی جب وارث بننے کے بعد مذکورہ بالا |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع