30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
اخت اعیانی میت کہ بابنت یابنت ابن اوہرچند پایان رود عصبہ میگردد۔دوم اخت علاتی میت کہ باہمیں بنتین مسطور تین عصبہ می شود[1]۔ |
میت کی عینی بہن جبکہ میت کی بیٹی یاپوتی کے ساتھ ہواگرچہ پوتیاں نیچے تك ہوں۔دوسری میت کی علاتی بہن ہیں جومیت کی بیٹی اورپوتی کے ساتھ ہو اگرچہ وہ پوتیاں نیچے تك چلی جائیں۔(ت) |
اسی میں اخت عینیہ کے احوال میں ہے:
|
چہارم عصبہ مع البنات الصلبیات ومع بنات الابن ہرچندپایاں روند[2]۔ |
عینی بہنوں کاچوتھا حال یہ ہے کہ وہ صلبی بیٹیوں اورپوتیوں اگرچہ نیچے تك ہوں کی موجودگی میں عصبہ ہوتی ہیں(ت) |
اسی میں اخت علاتیہ کے حالات میں ہے:
|
پنجم عصبہ مع البنات الصلبیات ومع بنات الابن ہرچند پایاں روندوقتے کہ عینی نباشد[3]۔ |
علاتی بہنوں کاپانچواں حال یہ ہے کہ وہ صلبی بیٹیوں اورپوتیوں اگرچہ نیچے تك ہوں کی موجودگی میں عصبہ ہوتی ہیں بشرطیکہ عینی بہن موجود نہ ہو(ت) |
علامہ ابن نوراﷲ انقروی نے حل المشکلات میں خوب طریقہ اختیارفرمایا کہ کہیں وان سفلت وان نزلن(اگرچہ نیچے تك چلی جائیں۔ت)نہ کہیں اورہرجگہ بے کہے مذکور ہویعنی ابتداء میں اپنی کتاب سے مسئلہ نکالنے کا طریق ارشاد فرمایا کہ جس مسئلہ میں فلاں وارث ہو اسے فلاں باب میں دیکھو مسائل بنات الابن کے لئے فرمایا:
|
ان کان فیھا بنت ابن المیت وان سفلت مع غیرھا من اصحاب الفرائض فھی فی الباب الثانی عشر[4]۔ |
اگرکسی مسئلہ میں میت کی پوتی اگرچہ نیچے تك ہودیگرذوی الفروض کے ساتھ جمع ہو تووہ مسئلہ بارہویں باب میں مذکورہوگا۔(ت) |
پھرختم مقدمہ کے بعد فہرس ابواب دی اس میں بھی فرمایا:
|
الباب الثانی عشر منھا فی بنت الابن |
بارہواں باب میت کی پوتی کے بارے میں ہے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع