30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پورانزلہ بہن پرگرا۔کامل چھ۶ ہزاراسی کے سہم سے اڑگئے اوربھتیجے نے اپناپوراحصہ چھ ہزار پالیا۔زیورمکان وغیرہا متاع میں بہن کے بھی دوحصے تھے اورنوٹوں میں عورت کاحق تھا بہن نے متاع میں اپناحصہ چھوڑا اورنوٹوں میں معاوضہ ایك حبہ بنایا اس کاحصہ مفت کاتھا الٰی غیرذٰلك مما یخاف ولایخاف الانصاف(وغیرہ ذالك جس کاڈرہے اور ڈرنہیں مگرانصاف کا۔ت)
تیسری صورت سب سے روشن ترہے کسی وارث نے اپنے حصہ سے کچھ نہ چھوڑا،عورت کوجوچھ ہزارچاہئیں تھے بے کم وبیش اتنے ہی ملے اب وہ کون سا جرم ہے جس کے سبب فاطمہ بیگم کاحق ایك چہارم کااڑگیا اوروہ کون سی خدمت ہے جس کے صلہ میں اسدعلی نے اپنے حق سے دیوڑھاپالیا۔اگرنوٹ ومتاع کی تبدیلی نہ کرتے توفاطمہ بیگم بارہ ہزار پاتی اوراسدعلی ولطیفن چھ چھ ہزار،صرف اس تبدیلی نے وہ کایاپلٹ کی کہ لطیفن کے چھ ہزار نکل کرفاطمہ کے بارہ ہزار سے نوہزاررہ گئے اوراسدعلی کے چھ ہزار سے نوہزار ہوگئے۔اس واضح روشن بدیہی بیان کے بعد کسی عبارت کی بھی حاجت نہ تھی مگرزیادت اطمینان عوام کے لئے ایسی کتاب کی صریح تصریح حاضرجو علم فرائض کی سب سے پہلی تعلیم کافی و وافی ومکمل اورہرمدرسے کے مبتدی طلبہ میں بھی مشہور ومعروف ومتداول ہے یعنی متن اما م سراج الدین وشرح علامہ سید شریف قدس سرہما اللطیف فرماتے ہیں:
|
(من صالح من الورثۃ علی شیئ معلوم من الترکۃ فاطرح سھامہ من التصحیح)ای صحح المسئلۃ مع وجود المصالح بین الورثۃ ثم اطرح سھامہ من التصحیح(ثم اقسم باقی الترکۃ)ای مابقی منھا بعد ما اخذہ المصالح(علی سھام الباقین)من التصحیح (کزوج وام وعم) فالمسئلۃ |
جس وارث نے ترکہ سے کوئی معین شیئ لے کر دیگرورثاء سے مصالحت کرلی تواس کاحصہ تصحیح میں سے نکال دو یعنی اس کووارثوں کے درمیان موجود تصورکرکے مسئلہ کی تصحیح کردو اورپھرتصحیح میں سے اس کے حصے نکال دو۔پھرصلح کرنے والے نے جب معین شیئ لے لی توتصحیح میں سے جوباقی بچا اس کودیگرورثاء کے حصوں پرتقسیم کردو جیسے کوئی خاتون اپنا شوہر،ماں اور چچا چھوڑکرفوت ہوگئی تومسئلہ خاوند کی موجودگی میں چھ سے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع