30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
قال اﷲ تعالٰی" اِنِ امْرُؤٌا ہَلَکَ لَیۡسَ لَہٗ وَلَدٌ وَّلَہٗۤ اُخْتٌ فَلَہَا نِصْفُ مَا تَرَکَ ۚ"[1]۔ |
اﷲ تعالٰی نے فرمایا:اگرکسی مرد کاانتقال ہوجو بے اولادہے اوراس کی ایك بہن ہو تو ترکہ میں اس کی بہن کاآدھا ہے۔ (ت) |
لاجرم یہ سراسرغلط اورحسب تصریح علمائے کرام خلاف اجماع ہے،زیادہ ایضاح چاہئے باآنکہ مسئلہ خود آفتاب کی طرح واضح ہے۔تویوں سمجھئے کہ یہاں تین صورتیں ہیں:
اوّل: یہ کہ وہ مال ترکہ جوایك وارث لے کرجدا ہوا اس کے اصل استحقاق سے کم ہو جیسا یہاں واقع ہوا کہ زوجہ کاحصہ چہارم تھا اوروہ آٹھویں پرراضی ہوگئی۔
دوم:اس کے حق سے زیادہ ہو،مثلًا صورت مذکورہ میں مکان وزیورواثاث البیت ۱۲ہزار کے ہوتے اوربارہ ہزار کے نوٹ توزوجہ کوبجائے ربع نصف مال پہنچتا۔
سوم:اس کے حق کے برابرہو،مثلًا مکان وغیرہ چھ ہزار کے ہوتے اوراٹھارہ ہزار کے نوٹ۔
صورت ثالثہ میں واجب ہے کہ بقیہ ورثہ کومال اسی حساب سے پہنچے گا جوعدم تخارج کی حالت میں پہنچتا۔تخارج کا اثرصرف اس قدرہوگا جواعیان کے تقسیم کاہوتاہے کہ ہرایك اپناکامل حصہ بے کم وبیش پاتاہے حصے کہ ہرشیئ میں مشاع تھے فقط جداہوجاتے ہیں۔
صورت اولٰی میں جبکہ باقی میع ورثہ کے ساتھ اس وارث نے مصالحہ کیا اور وہ مال جس میں ہرایك کاحق تھا تنہاخود لیا اوراپنے حصہ سے کم پرراضی ہوا توجوکچھ اس کے حصے کاباقی رہاواجب ہے کہ ان سب وارثوں کوپہنچے نہ کہ صرف ایك اس زیادت کامالك ہوجائے دوسرامحروم کیاجائے کہ یہ محض ظلم ونا انصافی ہوگا اورپہنچنا بھی ضرورہے کہ حصہ رسد ہویعنی ہرایك کواس حساب سے بڑھے جواصل ترکہ میں اس کاحق تھا کہ وہ شیئ جو وارث مذکورلے کرجداہوگیاہے اس میں ہرایك کاحصہ اسی حساب سے تھا۔
صورت ثانیہ میں سب بقیہ ورثاء اس وارث کوزیادہ دینے پرراضی ہوئے ہیں تو واجب ہے کہ وہ زیادت ہرایك کے حق سے حصہ رسد لی جائے نہ یہ کہ سارا بارایك وارث پرڈال دیں حالانکہ ان میں سب کے حصے تھے اورسب راضی ہوئے تھے۔یہ باتیں سب ایسی ہی بدیہی ہیں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع