30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اس نے ایك بھائی اخیافی اورایك بہن حقیقی اورایك بیٹا اورایك بیٹی حقیقی چھوڑی،ہنوز ورثہ تقسیم نہیں ہواتھا کہ ان میں سے ایك لڑکے کریم بخش نے انتقال کیا اس نے اپنے وارثوں میں سے ایك زوجہ مسماۃ آمنہ اوربہن حقیقی اورایك دادی اورپانچ چچے اخیافی اورایك پھوپھی اخیافی چھوڑے۔ازروئے شرع شریف کے کیاحکم ہے؟ بیّنواتوجروا۔
الجواب:
عبارت سائل سے ظاہریہ ہے کہ اس کے نزدیك اخیافی سوتیلی کوکہتے ہیں یعنی جسے باپ کی طرف سے علاقہ ہو اورماں کی طرف سے جدا،ولہٰذا اس نے اخیافی،والدہ کولکھا یعنی سوتیلی ماں۔اگربہن بھائی اخیافی میں بھی یہی مراد ہے یعنی وہ یٰسین کے سوتیلے بہن بھائی ہیں کہ باپ ایك اورماں جدا،تو اس صورت میں محمدیٰسین کاترکہ برتقدیر عدم موانع ارث ووارث آخروتقدیم دین و وصیت تیس سہام پر منقسم ہوکربیس سہام مریم اورپانچ آمنہ اور ایك یٰسین کے ہرسوتیلے بھائی کوملے گا۔صورت مناسخہ یہ ہے مگر اخیافی حقیقۃً ان بھائی بہن کوکہتے ہیں جوماں میں شریك ہوں اورباپ جدا۔اگریہ چھ شخص محمدیٰسین کے ایسے ہی بہن بھائی تھے تو ترکہ بشرائط مذکور صرف چھ سہام پرمنقسم ہوکرپانچ سہم مریم اورایك آمنہ کوملے گا۔محمدیٰسین کے ان بہن بھائیوں کاکچھ استحقاق نہیں لانھم من ذوی الارحام والرد مقدم علیھم(اس لئے کہ وہ ذوی الارحام ہیں اوررَد ان پرمقدم ہے۔ت) واﷲ تعالٰی اعلم۔
__________________
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع