30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الجواب:
زیور،برتن،کپڑے وغیرہ جوکچھ ماں باپ نے دختر کودیاتھا وہ سب ملك دخترہے اس میں سے بعدادائے دَین اگرذمہ دختر ہونیز اجزائے وصیت اگردخترنے کی ہو ہرچیز کانصف شوہر کاحصہ ہے اورنصف ماں باپ کا،اورجو زیور شوہرنے چڑھایاتھا اس میں ان لوگوں کے رسم رواج کودیکھنا لازم ہے اگروہ چڑھاوا صرف اس نیت سے دیتے ہیں کہ دلہن پہنے مگردلہن کی مِلك نہیں کردیتے بلکہ اپنی ہی ملك رکھتے ہیں جب توچڑھاوا شوہر یاشوہر کے ماں باپ کاہے جس نے چڑھایاہو،اوراگردلہن ہی کو اس کامالك کر دیتے ہیں تو وہ بھی مثل جہیزترکہ دختر ہے اسی حساب نصفانصف پرتقسیم ہوگا۔اور جس طرح شوہر آدھے ترکہ کامستحق ہے یونہی دختر کے والدین شوہر سے آدھا مہرلینے کے مستحق ہیں۔سائل نے جوبیان کیاکہ عورت صرف گھنٹہ بھرکیلئے دن میں مکان شوہر پرگئی تھی اسی دن اس کے بھائی کی شادی تھی جس میں بلالی گئی اور مکان تنہا میں زن وشوہر نہ رہنے پائے تو اس صورت میں بھی آدھا مہر کامل ہی والدین کوشوہرسے ملے گا کہ قبل خلوت طلاق ہوناسقوط نصف مہرہوتاہے۔موت اگرچہ قبل خلوت ہوکل مہرکو لازم کردیتی ہے۔
|
فی الدر یتأکد عند وطیئ اوخلوۃ صحت من الزوج او موت احدھما[1] الخ۔ |
دُرمیں ہے کہ مہروطی کے وقت یاشوہر کی طرف سے خلوت صحیحہ کے وقت یازوجین میں سے کسی ایك کی موت کے وقت لازم ہوجاتاہے الخ۔(ت) |
توبعد موت کل مہرلازم شدہ سے نصف حصہ زوج ہوا اورنصف والدین کوپہنچے گا۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۹۲: ازکانپوربانس منڈی مرسلہ محمدعلیم الدین صاحب محرم الحرام ۱۳۱۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ محمدیٰسین نے انتقال کیا اپنے وارثوں سے ایك ابن کریم بخش و بنت مریم وزوجہ عمرہ ووالدہ اخیافی وپانچ بھائی اور ایك بہن اخیافی چھوڑی ہنوز ورثہ تقسیم نہیں ہواتھا کہ اس میں سے زوجہ عمرہ نے انتقال کیا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع