30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مفقود الخبر ہے علی حسین کے سترسہام اس کی سترسال عمر تك امانت رہیں اگر وہ زندہ معلوم ہواسے دئیے جائیں یامرگیا ہوتواس کے ورثہ کوپہنچائے جائیں،اوراگر اس مدت تك پتانہ چلے تواس وقت جو اس کے وارث شرعی ہوں وہ پائیں آسودہ جوکچھ اپنے حصص سے زائدلے گئی اگر اس کامہرواجب الاداتھا اور وہ مال کہ لے گئی مقدار مہرواجب الاداء سے زائد نہ تھا تو اس کاحصہ بھی بدستور اس کی سترسال عمرہونے تك امانت رہے،اور اگرزائد تھا تواس کاالزام علی حسین نابالغ پرنہیں صرف آسودہ کے حصے سے بنی وبتولن اپنے حصے کانقصان وصول کرسکتی ہیں۔
|
وھو مسئلۃ الظفر بخلاف جنس الحق المفتی بہ الآن علٰی جواز الاخذ[1]۔واﷲ سبحانہ،وتعالٰی اعلم۔ |
اور وہ مسئلہ ہے اپنے حق کی جنس کے غیر کووصول کرنے پر کامیابی حاصل کرنے کا۔آج کے دور میں اس کولینے کے جواز پر فتوٰی ہے۔واﷲ سبحانہ،وتعالٰی اعلم(ت) |
مسئلہ ۹۰: ازصوبہ نمچ علاقہ گوالیار مرسلہ مولوی مبارك حسین صاحب ۲۵/رجب ۱۳۱۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین کہ ایك بیوہ عورت نے وفات پائی اور اس نے جوترکہ چھوڑا اس میں کچھ تو اس کاذاتی ہی مال ہے اور کچھ ایساہے جواس کے شوہر نے اپنی حیات میں اسے دے دیاتھا متوفیہ کاکوئی رشتہ دار قریب وبعید نہیں ہے نہ ذوی الفروض میں نہ عصبات میں نہ ذوی الارحام میں،غرضیکہ کسی قسم کاکوئی رشتہ دار نہیں ہے،متوفیہ کے شوہر کا ایك لڑکا پہلی عورت سے ہے اور وہ متوفیہ کے ترکہ کادعوٰی کرتاہے آیاترکہ ذاتی متوفیہ اورا س کے شوہر کا دیاہوا اس لڑکے کوملناچاہئے یانہیں؟ اور اگر ملنا چاہئے تومتوفیہ کاذاتی وشوہری دونوں یاایک،اوراگرنہ ملناچاہئے تووہ ترکہ کس کوملناچاہئے؟ عملداری ہنود ہونے کی وجہ سے بیت المال بھی نہیں ہے جو اس میں جائے بصیغہ لاوارثی سرکار میں
[1] ردالمحتار کتاب السرقۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۳ /۲۰۰،ردالمحتار کتاب الحجر داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۹۵
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع