30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

|
والبیان ظاھرھف فظھران اعتبار تعدد الجھات فی الاصول انما یکون بحصول التعدد فی الذوات فان کان حقیقۃ ذاك کما فی الامثلۃ التی ذکروھا فی الکتب والاوجب اعتبارہ حکما وعد اصل اصلین فی القسمۃ و یظھر ھذا لمن تأمل فیما صوروہ ایضا من کون الجھۃ من اصلین کما اذا ترك بنتی بنت ابن بنت ھما ایضا بنتا ابن ابن بنت اخری وابن بنت بنت ابن بھٰذہ الصورۃ: |
اوربیان ظاہرہے،یہ خلاف مفروض ہے۔پس ظاہرہوگیا کہ اصول میں تعدد جہات کا اعتبار ذوات میں تعدد کے اصول سے ہی ہوتاہے۔اگروہ تعدد حقیقتا ہوتوفبہا جیسا کہ ان مثالوں میں ہے جن کو مشائخ نے کتابوں میں ذکرفرمایا ورنہ حکمی طورپر تعدد کا اعتبارکرنا اورتقسیم میں ایك اصل کو دو اصلیں شمارکرنا ضروری ہوگا اور یہ اس شخص کے لئے بھی ظاہرہو جاتا ہے جومشائخ کی بیان کردہ اس صورت میں غورکرنے جو انہوں نے دواصلوں سے حاصل ہونے والی جہت کے بارے میں بیان کی ہے۔جیسے کسی شخص نے ایك بیٹی کی پوتی کی دو بیٹیاں چھوڑی ہیں اور وہی دونوں میت کی دوسری بیٹی کے پوتے کی بھی بیٹیاں ہیں۔اور ان کے علاوہ ایك بیٹے کی نواسی کا بیٹا چھوڑاہے۔صورت مسئلہ یوں ہوگی: |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع