30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
وفرع کذائی من جھۃ الابناء بحکم المقدمتین المذکورتین ان یکون المال بینھم اثلاثا ثلٰثہ للصاحبین واٰخرللجامع واٰخر للابنی لتساویھم جمیعًا کما عرفت وھٰذا انما یتأتی اذا اعتبر اصل الفرع الجامع اصلین ھٰکذا: |
اوراگریہی صورت بیٹوں کی جانب سے متحقق ہو توبھی مذکورہ بالا دومقدموں کی بنیاد پرحکم یہی ہوگا کہ مال ان کے درمیان تین حصوں کے طورپرمنقسم ہوگا،ایك تہائی دو الگ الگ جہتوں والوں کے لئے اورایك تہائی دونوں کے جامع کے لئے اورایك تہائی بیٹے کی فرع کے لئے،کیونکہ وہ سب آپس میں مساوی ہیں۔جیسا کہ توپہچان چکاہے۔اور یہ اسی وقت ہوگا جب دونوں جہتوں کی جامع فرع کی اص کودواصلیں فرض کیاجائے۔صورت مسئلہ یوں ہوگی: |

|
اعتبرنا البنت الاولٰی بنتین فکان فی البطن الاول ابن واربع بنات کابنین وعلی الاختصار ثلثۃ ابناء فالمسئلۃ من ثلٰثۃ واحد منھا لفرع الابن واثنان لطائفۃ البنات وتحتھن فی البطن الثانی ابنان وبنتان ای کثلثۃ ابناء ولایستقیم اثنان علیھم فتضرب المسئلۃ فی ثلثۃ تکن من تسعۃ |
ہم نے پہلی بیٹی کودوبیٹیاں فرض کیا تو اس طرح پہلے بطن میں ایك بیٹا اورچاربیٹیاں ہوگئیں جوکہ دوبیٹیوں کے برابر ہے۔بطور اختصار یہ کہ تین بیٹے ہوگئے۔چنانچہ مسئلہ تین سے بنے گا جن میں سے ایك بیٹے کی فرع کے لئے اوردوبیٹیوں کے فریق کے لئے ہوں گے اور ان بیٹیوں کے نیچے دوسرے بطن میں دوبیٹے اوردوبیٹیاں ہیں یعنی تین بیٹے ہوگئے۔اور دو |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع