30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

|
وانما اعبرنا فیھما بالولد لیعم الذکر والانثٰی فان الحکم لایختلف،المسئلۃ من اثنین لان ابنا کبنتین فنصیب الابن لفرع الاخیر ونصیب طائفۃ البنات یقسم فی البطن الثانی اثلاثا فتضرب المسئلۃ فی ثلٰثۃ وتصح من ستّۃ ثلٰثۃ منھا لفرع الابن واثنان لابن الکائن فی البطن الثانی من طائفۃ البنات و واحد للبنت التی فیہ ثم ینتقلان الٰی فرعیہما فیکون مالفرعی البنتین مساویا لماکان لفرع الابن وبعد تمہید ھٰذا نقول اذا اجتمعوا اعنی صاحبی الجھتین وجامعھما من جانب البنات |
ہم نے ان دونوں بطنوں میں اولاد کے ساتھ اس لئے تعبیرکی تاکید یہ مذکر ومؤنث دونوں کو عام ہوجائے اس لئے کہ دونوں صورتوں میں حکم مختلف نہیں ہوتا۔مسئلہ ۲ سے بنے گا کیونکہ ایك بیٹا دوبیٹیوں کی مثل ہے چنانچہ بیٹے کاحصہ اس کی آخری فرع کوملے گا جبکہ بیٹیوں کے فریق کاحصہ تین حصے بناتے ہوئے دوسرے بطن میں تقسیم ہوگا۔اصل مسئلہ یعنی دوکوتین میں ضرب دی جائے گی تو اس طرح چھ سے مسئلہ کی تصحیح ہوگی جس میں سے تین بیٹے کی فرع کوملیں گے اوردو اس بیٹے کو ملیں گے جوبیٹیوں کے فریق سے دوسرے بطن میں ہے جبکہ ایك بیٹی کوملے گا جو اس بطن میں ہے پھر ان دونوں کے حصے ان کی فرعوں کی طرف منتقل ہوں گے۔چنانچہ جو کچھ دونوں بیٹیوں کی فرعوں کوملا وہ بیٹے کی فرع کو ملنے والے حصوں کے برابر ہے۔اس تمہید کے بعد ہم کہتے ہیں کہ یہ اس وقت ہے جب دو الگ الگ جہتوں والے اوران دونوں جہتوں کا جامع بیٹیوں کی جانب سے جمع ہوئے ہیں |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع