30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
بطن وقع فیہ الاختلاف وفیہ ابنان وبنتان فالمسئلۃ من ستّۃ اربعۃ لطائفۃ الذکور واثنان لطائفۃ الاناث ثم لاخلف تحت شیئ من الطائفتین فی بطن مافیصیب الابن الاول من ابیہ اثنین و کذٰلك الابن الثانی والابن الاول من امہ واحد و کذٰلك الابن الثالث فیکون للاول ثلٰثۃ مثل ما لمجموع الباقین وھٰکذا کان ینبغی لانہ جامع لقرابتھما جمیعا ولیعلم ثانیا ان ھاتین الجھتین المذکورتین مثلًا فی جانب البنات مجموعھما مساوٍ لجھۃ واحدۃ فی جانب الابن اذا لم یکن صاحبھا وارثا ولاولد وارث کولدولد بنت ابن ھٰکذا: |
بطن ہے جس میں مذکور ومؤنث کے اعتبار سے اختلاف واقع ہوا۔اس بطن میں دوبیٹے اوردوبیٹیاں ہیں،چنانچہ مسئلہ چھ سے بنے گا جس میں سے چار مذکرفریق اوردو مؤنث فریق کے لئے ہوں گے پھران دونوں فریقوں کے نیچے کسی بطن میں مذکرومؤنث کے اعتبار سے کوئی اختلاف نہیں،لہٰذا پہلے بیٹے کو اس کے باپ کی طرف سے دوحصے ملیں گے یونہی دوسرے بیٹے کوبھی(اس کے باپ کی طرف سے دوحصے ملیں گے) اورپہلے بیٹے کوبھی اس کی ماں کی طرف سے ایك حصہ ملے گا یونہی تیسرے بیٹے کوبھی(اس کی ماں کی طرف سے ایك حصہ ملے گا)تو اس طرح پہلے بیٹے کو تین حصے ملے جوباقی دونوں بیٹوں کے مجموعی حصوں کے برابر ہیں،اوریونہی ہونا چاہئے کیونکہ وہ ان دونوں کی قرابتوں کاجامع ہے۔اورثانیًا جاننا چاہئے کہ یہ دونوں مذکورہ جہتیں جومثال کے طورپر بیٹیوں کی جانب میں ہیں ان کامجموعہ اس ایك جہت کے برابرہے جوبیٹے کی جانب میں ہے جبکہ اس کاصاحب نہ تو وارث ہو اورنہ ہی وارث کی اولاد ہو،جیسے پوتی کی اولاد کی اولاد۔صورت مسئلہ یوں ہوگی: |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع