30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
لکانت المسئلۃ من ثلثۃ ثلثاھا لفرع الابن وثلثھا لفرع البنت لانك اذا قسمت المال علی البطن الاول لاختلافہ ذکورۃ وانوثۃ اثلاثا اصاب فرع الابن اثنان نصیب ابیھا وکان للبنت العلیا واحد وتحتھا فی البطنین وان کان اختلاف ذکورۃ وانوثۃ لکن لا حاجۃ الٰی اعتبارہ والضرب فی المسئلۃ لانکسارہ لان کل مایصیب طائفۃ الذکر والانثٰی تحتھا انما یحوزہ فرعھا لاخیرفیکون لہ واحد ولصاحبہ اثنان ولو لم یکن الاول ذاقرابتین کأن کان ابن ابن ابن بنت فقط او ابن بنت بنت بنت فحسب لکان التقسیم ایضًا ھکذا لہ واحد ولصاحبہ اثنان فلم یصل الیہ من تعدد جھات قرابتہ الاما کان یصل لذی قرابۃ واحدۃ ھف بخلاف ما اذا جعلنا البنت بنتین فان المسئلۃ تکون |
تومسئلہ تین سے بنے گا۔اس میں سے دوتہائی بیٹے کی فرع کے لئے جبکہ ایك تہائی بیٹی کی فرع کے لئے ہوگا اس لئے کہ جب تونے مال کوتین حصے بناتے ہوئے پہلے بطن پرتقسیم کیا کیونکہ وہ مذکرومؤنث کے اعتبار سے مختلف ہے توبیٹے کی فرع کو دوحصے ملے جو اس کے باپ کاحصہ ہے اور سب سے اوپر والی بیٹی کوایك حصہ ملا،اور اس کے نیچے دوبطنوں میں اگرچہ مذکرومؤنث کے اعتبار سے اختلاف ہے لیکن اس اختلاف کا اعتبار کرنے اور کسر کی وجہ سے مسئلہ میں ضرب دین کی کوئی ضرورت نہیں،اس لئے کہ جوکچھ مذکرفریق اورمؤنث کوملا اسے اس فریق کی آخری فرع سمیٹ لے گی۔چنانچہ مؤنث کی فرع کو ایك اور اس کے صاحب(مقابل)کودو ملیں گے اور اگرپہلا وارث دوقرابتوں والانہ ہو جیسا کہ وہ فقط بیٹی کے پوتے کابیٹاہو یافقط بیٹی کی نواسی کابیٹاہو،تو اس صورت میں بھی تقسیم ویسی ہی ہوگی جیسی پہلے ہوئی یعنی بیٹی کی فرع کو ایك اور اس کے مقابل کو دوحصے ملیں گے۔چناچہ اس کوقرابت کی متعدد جہتوں سے بھی اتناہی حصہ موصول ہوا جتنا ایك قرابت والے کوملتاہے۔یہ خلاف مفروض ہے بخلاف اس کے کہ جب ہم بیٹی کو دوبیٹیاں فرض کرلیں تو اس صورت میں |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع