30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
لما اعتبر تعدد الجھات فی الجدّات جعل الجدۃ جدّتین وجدّات،کما فی السراجیۃ وغیرھا عامۃ الکتب وبالجملۃ لامعنی لتعدد الجھۃ الابتعدد الشخص ولوفی اللحاظ فمحمد اذا اعتبرہ ھٰھنا فی الاصول فان کانوا متعددین فقد حصل التعدد حقیقۃً باخذھم منفردین فی القسمۃ ثم ایصال ماوصل الیھم جمیعًا الی الفرع الواحد المنتھی بھم کما ذکرنا اما اذا کان الاصل واحدًا وقد اخذ عــــــہ |
امام محمد رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ نے جب جدّات(دادیوں)میں جہتوں کے متعدد ہونے کا اعتبار کیاتو ایك دادی کودویاکئی دادیوں کے برابر بنایا،جیسا کہ سراجیہ وغیرہ عام کتابوں میں ہے۔خلاصہ یہ کہ اشخاص کے تعدد کے بغیر جہت کے متعدد ہونے کاکوئی معنی نہیں اگرچہ تعدد اشخاص اعتباری ہو۔ چنانچہ امام محمد علیہ الرحمۃ نے جب یہاں پر اصول میں تعدد کا اعتبارکیا تو اگراصول متعددہوں توحقیقتًا تعددحاصل ہوگا اس طورپرکہ ان کوتقسیم میں الگ الگ لیاجائے گا۔پھرجوکچھ ان سب کوملے گا وہ اس ایك فرع تك پہنچایاجائے گا جس پر اصول کی انتہاہوتی ہے جیسا کہ ہم نے ذکرکیا۔لیکن اگراصل ایك ہواور اس کو |
|
عــــــہ:احترازا عمااذا وقع فی بطن متفق بالذکورۃ والانوثۃ فانہ لایقسم علی من فیہ اصلا سواء کان لفرعہ جھۃ اوجھات کما لایلاحظ من فیہ بدنا سواء کان فی فرعہ بدن او ابدان ولیس ھٰذا لان الجہات لو الابدان لما تعتبر ھٰھنا بل لان مایصیبھم یجمع جمیعا ویقسم علٰی |
عــــــہ:اُس صورت سے احتراز ہے کہ جب وہ ایسے بطن میں واقع ہو جو مذکر ومؤنث کے اعتبار سے متفق ہے کیونکہ وہ اس پرتقسیم نہیں کیاجاتا جس میں ایك اصل ہے چاہے اس کی فرع کی ایك جہت ہویا متعدد جہتیں ہوں جیسا کہ نہیں لحاظ کیاجاتا اس کا جس میں ایك بدن ہوچاہے اس کی فرع میں ایك بدن ہو یا متعدد۔یہ اس لئے نہیں کہ یہاں جہتوں اوربدنوں کا اعتبارنہیں کیا جاتابلکہ (باقی برصفحہ آئندہ) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع