30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اصول میں اعتبار یوں حاصل کہ جب وہ ہراصل اس فرع کے لحاظ سے تقسیم ملحوظ رہی ہرجہت قرابت لحاظ میں آگئی اورہرجہت کا حصہ اس وارث نے جمع کرلیا کتب متداولہ جو اس وقت فقیر کے پیش نظر ہیں ان میں اعتبار تعدد جہات فی الاصول کی زیادہ تشریح نہیں اورمثال جس نے دی اسی صورت خاصہ کی دی۔صورت دوم یہ کہ اس فرع کو ایك ہی اصل کے ذریعہ سے میت کے ساتھ دورشتے ہوں جیسے سعادوسعید کہ ان کے دونوں علاقے بذریعہ شخص واحد اعنی عمرو کے ہیں۔یونہی گلچہرہ وگلفام کو بذریعہ ہندہ اگرچہ گلفام کوایك رشتہ اصل دیگر عمرہ کی طرف سے بھی ہے اس صورت کی تصریح مثال اس وقت نظرمیں نہیں۔
وانا اقول:وباﷲ التوفیق(اورمیں اﷲ تعالٰی کی توفیق سے کہتاہوں۔ت)مانحن فیہ میں اعتبار تعددجہات فی الاصول کا مطلب یہ ہے کہ ایسی فرع کی اصل کواصول متعددہ بعدد جہات حاصلہ بذریعہ فرع مذکور سمجھاجائے،مثلًا صورت مذکورہ میں عمرو بلحاظ سعادکہ ذات جہتین ہے دوبھائی ہے نیزبلحاظ سعید بھی ایساہی ہے تولحاظ جہات لحاظ ابدان کا اجتماع عمرو کو چاربھائی کر دے گا اورہندہ بلحاظ جہات گلچہرہ دوبہن ہے اور اسی طرح بلحاظ جہات گلفام اوربلحاظ بدن حسینہ وشہناز ایك ایك بہن تووہ مجموع چھ بہن ہے اورعمرہ میں صرف تعدد ابدان گلفام وشہناز ہے تعدد جہات نہیں کہ یہ دونوں اگرچہ جہات عدیدہ رکھتے ہوں مگرنہ بذریعہ تنہاعمرہ تو وہ صرف دوبہن ہے اوربکر جس کی فرع میں نہ تعددبدن ہے نہ اسی کے ذریعے سے تعددجہت تنہا ایك بھائی ہے توبطن اول میں زوجہ اورپانچ بھائی اور آٹھ بہنیں ہیں۔
|
والدلیل علیہ علٰی مایظھر للعبد الضعیف واﷲ سبحانہ،وتعالٰی اعلم ان تعدد الجھات یوجب تعدد الاشخاص ولو حکمًا الاتری ان ابایوسف لما اعتبر تعدد الجھات فی الفروع جعل کل فرع ذی جھتین کفرعین کما نصواعلیہ قاطبۃ وکذٰلك محمد رحمہ اﷲ تعالٰی |
اور اس پردلیل جیسا کہ اس عبدضعیف پرظاہرہوئی،او راﷲ سبحٰنہ وتعالٰی خوب جانتاہے،یہ ہے کہ جہتوں کا متعدد ہونا اشخاص کے تعدد کو ثابت کرتاہے اگرچہ حکمی طورپر ہو۔ کیا تونہیں دیکھتا کہ امام ابویوسف علیہ الرحمہ نے جب فروع میں جہتوں کے متعدد ہونے کا اعتبارکیاتو ہردوجہتوں والی فرع کو دوفرعوں کی طرح بنایاجیسا کہ اس پر تمام مشائخ نے نص فرمائی ہے۔یوں ہی |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع