30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کتب فرائض وفقہ میں کسی نے اسے موانع ارث سے نہ گنا۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۸۶: ازشہرکہنہ ۱۸ذی الحجہ ۱۳۱۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس صورت میں کہ ہندہ فوت ہوئی اس نے اپنے حقیقی چچا کی ایك دخترکے تین پسراورتین دختراوردوسرے حقیقی چچا کی دختر کے دودختراورحقیقی پھپی کے دختر کاایك پسراور حقیقی ماموں کے دختر کے دوپسر ایك دختراوراپنے شوہر کے حقیقی بھائی کی دختر اورشوہر کے حقیقی بہن کے دخترکے ایك دختر تین پسرچھوڑے۔اس صورت میں ترکہ ہندہ کاکس کو پہنچے گا اورکَے سہام پرمنقسم ہوگا۔بیّنواتوجروا
الجواب:
برتقدیرصدق مستفتی وعدم موانع ارث وانحصار ورثہ فی المذکورین وتقدیم دیون و وصایا ترکہ ہندہ کا دوہزار آٹھ سو پانچ سہام پرمنقسم ہوکرچچازاد بہن کے ہرپسر کوتین سوبیس۳۲۰ اوردونوں چچازادبہنوں کی ہردختر کوایك سوساٹھ۱۶۰ اورپھپی زادبہن کے پسرکوایك سودس۱۱۰ اورماموں زادبہن کے ہرپسر کوتین سوچوہتر۳۷۴ اوراس کی دخترکوایك سوستاسی ۱۸۷ ملیں گے اور شوہر کے بھائی بہن کی اولاد کچھ نہ پائے گی۔
وصورۃ المسألۃ ھکذا(مسئلہ کی صورت اس طرح ہے۔ت)

|
وذٰلك لا اصل المسئلۃ من ثلثۃ اثنان منھا القرابۃ الاب و واحد لقرابۃ الام ثم مااصاب |
یہ اس لئے ہے کہ مسئلہ تین سے بنے گا جس میں سے دو حصے باپ کی قرابت اورایك حصہ ماں کی قرابت کے لئے ہوگا،پھر جوباپ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع