30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
النکاح الموقوف کالدخول فی الفاسدفیسقط الحد ویثبت النسب ویجب الاقل من المسمی ومن مھر المثل[1]الخ۔ |
اور اسی میں ہے نکاح موقوف میں دخول کاحکم نکاح فاسد میں دخول کے حکم کی طرح ہے،چنانچہ اس سے حدساقط ہوگی،نسب نامہ ثابت ہوگا اور مقررہ مہراورمہرمثل میں سے جو اقل ہوگا وہ واجب ہوگا الخ(ت) |
اور جب شرعًا اس کانسب زید سے ثابت،اور وہ زید کابیٹا ہے،تووارث ہونے میں شبہہ کیاہے حیث لامانع من الارث(اس لئے کہ میراث سے کوئی مانع موجودنہیں۔ت)پس برتقدیر عدم وارث آخروتقدیم دین ووصیت ترکہ زید چھ سہام پرمنقسم ہوکردوسہم یہ لڑکا اورایك ایك سہم ہرایك بیٹی پائے گی اوربھائی بھتیجا بہن کوئی کچھ نہ پائے گا۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۸۳: ازریاست عثمان پور ضلع بارہ بنکی مرسلہ شیخ محمدعنایت حسین صاحب ۳۰رمضان ۱۳۱۷ھ
|
چہ می فرمایند علمائے دین اطہرومفتیان شرع مطہر اندریں مسئلہ کہ مسمی زید سہ پسردارد بکر،عمرو،خالد۔خالد را شخصے لاولد بہ تبنیت گرفت وقائم مقام جائزخود نمود،دریں صورت خالد ازمتروکہ پدری شرعی حصہ ہم خواہد یافت یامحروم الارث خواہدشد فقط۔ |
کیافرماتے ہیں دین اطہر کے علماء اور شرع مطہر کے مفتی حضرات اس م سئلہ میں کہ زیدنامی شخص کے تین بیٹے ہیں: بکر،عمرو اورخالد۔خالد کو ایك بے اولادشخص نے اپنابیٹابنالیا اور اس کو اپنی اولاد کے قائم مقام کرلیا۔اس صورت میں خالد اپنے باپ کے ترکہ سے بھی شرعی حصہ پائے گا یا اس کی میراث سے محروم ہوگافقط؟ |
الجواب:
|
پسرخواندہ نہ چنیں کس راپسرمی شود نہ خود بے علاقہ ازپدر ان الحقائق لاتغیّر،شرعًا وارث پدر |
منہ بولابیٹانہ ایسے شخص کابیٹاہوتاہے اور نہ ہی اپنے باپ سے بے تعلق ہوتاہے کیونکہ حقیقتوں میں تغیرنہیں ہوتا۔شرعی طور |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع