30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
بالحرمۃ لانہ زنا کما فی القنیۃ وغیرھا [1]۔ |
باوجود ایساکرنے والے پر حد واجب ہوتی ہے کیونکہ یہ زنا ہے جیسا کہ قنیہ وغیرہ میں ہے۔(ت) |
اورایسی صورت میں مذہب مفتی بہ پرحتی الامکان بچہ اسی ناکح ثانی بنکاح فاسد کا قرارپاتاہے نہ شوہراول صاحب نکاح صحیح کا۔
|
فی الدرالمختارغاب عن امرأتہ فتزوجت بآخر و ولدت اولادا ثم جاء الزوج الاول فالاولاد للثانی علی المذب الذی رجع الیہ الامام وعلیہ الفتوی کما فی الخانیۃ والجوھرۃ والکافی وغیرھا وفی حاشیۃ شرح المنار لابن الحنبلی وعلیہ الفتوی ان احتملہ الحال[2] فی ردالمحتار قولہ غاب عن امرأتہ شامل لما اذا بلغہا موتہ او طلاقہ فاعتدت و تزوجت ثم بان خلافہ ولما اذا ادعت ذٰلك ثم بان خلافہ ح[3] اھ وفیہ حکم الدخول فی |
درمختار میں ہے کوئی شخص بیوی کو چھوڑ کرغائب ہوگیا اس نے دوسرے شخص سے شادی کرکے اولاد جنی،پھر پہلاخاوند آگیا تو اس مذہب کے مطابق جس کی طرف امام ابوحنیفہ رحمہ اﷲ تعالٰی نے رجوع فرمایا اولاد دوسرے خاوند کی ہوگی،اور اسی پرفتوٰی ہے۔جیسا کہ خانیہ،جوہرہ اورکافی وغیرہ میں ہے۔ ابن الحنبلی کی شرح منار کے حاشیہ میں ہے اور اس پرفتوٰی ہے اگرحال اس کااحتمال رکھتاہو،ردالمحتارمیں ہے ماتن کاقول کہ"وہ بیوی چھوڑکرغائب ہوگیا"یہ اس صورت کو شامل ہے جب بیوی کوخاوند کی موت یااس کے طلاق دینے کی خبر پہنچی ہوتواس نے عدت گزار کرشادی کرلی پھراس کے خلاف ظاہرہوا،اور اس صورت کوبھی شامل ہے کہ جب اس عورت نے اس کا دعوٰی کیاہو پھر اس کے خلاف ظاہرہوا ہو(ح)الخ۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع