30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جواولاد پرتقسیم کی جائے اس میں بیٹا،بیٹی دونوں برابررکھے جاتے ہیں اکہرے دوہرے کاتفاوت بعد موت ہے۔واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم
مسئلہ ۸۲: ازفیروزپور مرسلہ مولوی غلام صدیق نائب مدرس مدرسہ شاہی ضلع بریلی ۲۷ربیع الآخرشریف ۱۳۱۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید ہندہ کو قابل نکاح سمجھ کر اپنے نکاح میں لایا اورہمبستر ہوا یہاں تك کہ ہندہ کوحمل رہا اس کے بعد زید پر واضح ہواکہ ہندہ نے دھوکادیا وہ عمرو کی منکوحہ ہے زید نے اسے اپنے یہاں سے نکال دیاہندہ نے اپنے شوہر عمرو کوکچھ دے کرطلاق لی اوربعد تین مہینے گزرنے کے پھرزید کے پاس آئی زید نے اب اسے رکھ لیا اورحمل مذکور سے لڑکا بھی پیدا ہولیاتھا مگراب بعد طلاق اس سے نکاح نہ کیا اس پرلوگ انگشت نماہوئے زیدنے پھر عورت کو نکال دیا اس نے تیسرے شخص سے نکاح کرلیا،اب زید کا انتقال ہواایك یہی لڑکا جو یقینا زید کے نطفہ سے ہے اورچارلڑکیاں اورایك بھائی ایك بھتیجا ایك چچازادبہن وارث چھوڑے،اس صورت میں ترکہ زید کا کس طرح منقسم ہوگا اوریہ لڑکا اس کاوارث ہوگا یانہیں؟ بیّنواتوجروا۔
الجواب:
صورت مستفسرہ میں یہ لڑکا شرعًا زیدکابیٹا اور اس کاوارث ہے منکوحہ غیر سے نکاح جبکہ ناکح کواس کانکاح غیرمیں ہونا معلوم نہ ہونکاح باطل نہیں بلکہ فاسد ہے۔
|
فی ردالمحتار عن البحر عن المجتبٰی اما نکاح منکوحۃ الغیر ومعتدتہ فالدخول فیہ لایوجب العدۃ ان علم انھا للغیر لانہ لم یقل احد بجوازہ فلم ینعقد اصلا قال"فی البحر"فعلی ھذا یفرق بین فاسدہ و باطلہ فی العدۃ ولہذا یجب الحد مع العلم |
رِدّالمحتار میں بحرسے بحوالہ مجتبٰی منقول ہے غیرکی منکوحہ یا غیرکی معتدہ سے نکاح ہوا تو اس میں دخول عدت کو واجب نہیں کرتا اگرناکح جانتاہو کہ یہ غیرکی منکوحہ یامعتدہ ہے کیونکہ اس کے جائز ہونے کاقول کسی نے بھی ہیں کیا،چنانچہ یہ نکاح بالکل منعقد نہیں ہوتا۔بحرمیں کہا اس بنیاد پرعدت کے بارے میں نکاح فاسد اورنکاح باطل کے درمیان فرق کیاجاتاہے۔اسی لئے حرمت کاعلم ہونے کے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع