30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
من جانب الاب وبعضھم من جانب الام فلااعتبار ھٰھنا لقوۃ القرابۃ ولالولد العصبۃ فی ظاھر الروایۃ فبنت العم لاب وام لیست اولٰی من بنت الخالۃ لعدم اعتبارکون بنت العم ولدالعصبۃ[1] اھ باختصار۔ |
کی جانب سے اوربعض ماں کی جانب سے ہوں تویہاں قرابت کی قوت اورعصبہ کی اولاد ہونے کاظاہر الروایہ کے مطابق کوئی اعتبارنہیں ہوگا،لہٰذا حقیقی چچا کی بیٹی خالہ کی بیٹی سے اولٰی نہیں ہوگی کیونکہ یہاں چچا کی بیٹی کااولاد عصبہ ہونا معتبرنہیں ہے اھ اختصار(ت) |
بالجملہ خالہ اگرعلاتیہ صنف رابع میں ہے اوربنت العم حکمًا اولاد صنف رابع کے مثل ہے حاشیہ علامہ طحطاوی علی الدرالمختار میں ہے:
|
حکم بنات الاعمام حکم اولاد الصنف الرابع[2]۔ |
چچوں کی بیٹیوں کاحکم صنف چہارم کی اولاد کے حکم کی طرح ہے۔(ت) |
اورصنف رابع اولاد صنف رابع پربالاجماع مقدم ومرجح ہے کمالایخفی(جیسا کہ پوشیدہ نہیں۔ت)واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم
مسئلہ ۸۱: ۱۰ربیع الاول شریف ۱۳۱۷ھ مرسلہ محمدعبدالصبور
جناب مولوی صاحب قبلہ فیض رسان دام ظلہم،بعد تسلیم کے عرض خدمت فیض درجت میں یہ ہے کہ ایك شخص کے ایك لڑکا اورایك لڑکی ہے اورایك نواسے کوبیٹابنایاہے اب وہ شخص اپنی حیات میں اپنامال واسباب تقسیم کرناچاہتاہے اوریہ دریافت کرتاہے کہ نواسے کو مثل بیٹے کے جواسباب وغیرہ تقسیم کرکے دوں تو اس کامواخذہ میرے ذمے تونہ ہوگا کہ بیٹی کے مقابلے میں نواسے کوبھی مثل بیٹے کے حصہ دیاہے اس کافتوٰی صحیح طورپرمہرلگاکر مرحمت فرمائیے گا تاکہ اس پرعمل کیاجائے۔
الجواب:
وعلیکم السلام ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ،مہروغیرہ دَین جوکچھ ادا کرکے جوباقی بچے تین حصے برابر کردیجئے،ایك پسر،ایك دختر،ایك نواسے کو،اس میں کوئی مواخذہ یاکسی کی حق تلفی نہ ہوگی،زندگی میں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع