30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
اولاد الخالۃ وبالعکس لوجود الاقربیۃ مع اختلاف الجھۃ [1]اھ مختصرًا۔ |
اولٰی ہوگی اوریوں ہی اس کے برعکس کیونکہ جہت مختلف ہونے کے باوجود اقربیت پائی گئی اھ مختصرًا(ت) |
درمختارمیں ہے:
|
یقدم الاقرب فی کل صنف[2]۔ |
ہرصنف میں زیادہ قرب رکھنے والے کومقدم کیاجائے گا(ت) |
اورشك نہیں کہ خالہ بنت العم سے اقرب ہے،خالہ کے معنی ہیں خواہر مادرمیت اوربنت العم کے معنی دختربرادرپدرمیت ولہٰذا بنت العم ابن الخالہ یابنت الخالہ پرمقدم نہیں ہوتی دونوں ایك درجے میں لکھی جاتی ہیں۔حل المشکلات علامہ انقروی میں ہے:
|
من مات وترك بنت عم لابوین و ابن خال لاب اولام فالمال بین الفریقین اثلاثا ثلثا المال للبنت لانھا من جانب الاب وثلثہ للابن لانہ من جانب الام[3]۔ |
جوشخص حقیقی چچا کی بیٹی اورعلاتی یااخیافی ماموں کابیٹا چھوڑ کر فوت ہواتو اس کامال دونوں فریقوں میں تہائیوں کے اعتبار سے تقسیم ہوگا،دوتہائی بیٹی کوملیں گے کیونکہ وہ باپ کی جانب سے ہے اور ایك تہائی بیٹے کوملے گاکیونکہ وہ ماں کی جانب سے ہے۔(ت) |
اور جب بنت العم اولادخالہ سے مساوی الدرجہ ہوئی تو خالہ سے بالبداہۃ نیچے درجے میں ہوئی اورجب بنت العم نے بوجہ ولدیت عصبہ اولاد خالہ پرترجیح نہ پائی کہ حیزقرابت مختلف ہے توخالہ کے ہوتے ہوئے اس کی ولدیت عصبہ بدرجہ اولٰی ساقط الاعتبار ٹھہری۔سراجیہ وشریفیہ میں ہے:
|
ان استووا فی القرب ولٰکن اختلف حیزقرابتھم بان کان بعضھم |
اگر وہ قرب میں برابرہوں لیکن جہت قرابت میں مختلف ہوں مثلًا ان میں سے بعض باپ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع