30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مقدمہ علی المیراث کالدین والوصیۃ ترکہ ہندہ کادوسہام پرمنقسم ہوکرایك سہم شوہر اورایك حقیقی خواہر کوملے گا باقی کوکوئی کچھ نہ پائے گا،بھانجا توذوی الارحام سے ہے اوربھتیجا بھائی کے ہوتے محروم بھائی عصبہ تھا اہل فرائض یعنی شوہر وخواہر سے جوبچتا لیتامگر ان سے کچھ باقی بچاہی نہیں لہٰذا کچھ نہ پہنچا۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۸۰: ازالٰہ آباد کچہری دیوانی مرسلہ شیخ رضی الدین صاحب وکیل ۱۴محرم ۱۳۱۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین فرقہ سنت وجماعت بیچ اس مسئلہ کے کہ شیخ معین الدین نے انتقال کی اورمسماۃ مینابی بی ایك زوجہ لاولد اورمسماۃ عائشہ بی بی ایك خالہ علاتی یعنی نانا کی دختردوسری ماں سے جومتوفی کی حقیقی نانی نہ تھی اورمسماۃ مصری بی بی ایك خالہ عینی کے تین پسراورایك دختر اورمسماۃ برکت النساء بی بی دختر عم حقیقی متوفی کوچھوڑا اوربعد فوت شیخ معین الدین مذکور کے مسماۃ برکت النساء بی بی بھی تین پسروتین دخترچھوڑکر فوت ہوگئی پس ایسی صورت میں املاك متروکہ شیخ معین الدین متوفی ازروئے شرع شریف حنفی کے کس کس کو کس کس قدرپہنچے گا وملے گا؟فتوٰی بحوالہ عبارت کتاب کے ارقام و مرحمت فرمایاجائے۔بیّنواتوجروا۔
الجواب:
صورت مستفسرہ میں برتقدیر عدم موانع ارث ووارث آخروتقدیم مہرودیون ووصایا ترکہ شیخ معین الدین کاچارسہام پرمنقسم ہو کرایك سہم زوجہ اور تین سہم عائشہ کوملیں گے اورمصری کی اولاد یابرکت النساء کے لئے کچھ نہیں۔شرعًا ذوی الارحام کے ہر صنف بلکہ عصبات کی بھی ہرنوع میں یہ حکم عام ہے کہ قرب درجہ مطلقًا موجب ترجیح ہے ایك صنف کے ذوی الارحام یاایك نوع کے عصبات میں جسے میت تك انتساب میں وسائط کم ہوں گے وہ کثیر الوسائط پرہمیشہ مقدم رہے گا اگرچہ دوسراقوت قرابت یاولدیت عصبہ رکھتاہو مثلًا برادرعلاتی ابن الاخ عینی سے مقدم ہے اور بنت خالہ ابن ابن العمہ پرمرجح ہے۔وھکذا شریفیہ میں ہے:
|
اولٰھم بالمیراث اقربھم الی المیت من ای جہۃ کان ای سواء کان الاقرب من جھۃ الاب اومن غیرجہتہ فاولاد العمۃ اولٰی من اولاد |
ان میں سے میراث کازیادہ حقدار وہ ہوگا جو میت کے زیادہ قریب ہوچاہے کسی بھی جہت سے ہو یعنی برابرہے کہ وہ زیادہ قریب باپ کی جانب سے ہو یا ماں کی جانب سے۔ چنانچہ پھوپھی کی اولاد،خالی کی اولاد کی اولاد سے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع