30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مادر متوفیہ اپنی کے خالد سے ازروئے شرع شریف ہے یانہیں؟ بیّنواتوجروا۔
الجواب:
مہرجبکہ کُل یابعض ذمہ شوہر واجب الادا ہو اورعورت بے ابراومعافی معتبرشرعی مرجائے تووہ مثل دیگر دیون واموال متروکہ زن ہوتاہے اگرشوہربعد کو زندہ رہے تووہ خود بھی اس سے اپنا حصہ شرعی حسب شرائط مقررئہ علم فرائض پاتاہے جبکہ عورت کا ترکہ قابل تقسیم ورثہ ہو یعنی عورت پرکوئی دین ایسانہ ہو جواس کے تمام متروکہ نقدودَین وجائداد کومحیط ومستغرق ہو ورنہ شوہر خواہ کوئی وارث بذریعہ وراثت مہرخواہ دیگرمتروکہ سے کچھ پانے کے مستحق نہ ہوں گے سب ادائے دین مورثہ میں صرف کیا جائے گا لقولہ تعالٰی "مِنۡۢ بَعْدِ وَصِیَّۃٍ یُّوۡصِیۡنَ بِہَاۤ اَوْدَیۡنٍ ؕ"[1] (اﷲ تعالٰی کے اس ارشادکی وجہ سے"اس وصیت کے بعد جووہ کرگئیں اورقرض کے بعد"۔ت)پس صورت مستفسرہ میں زوجہ اولٰی پراگرایسادَین تھا توکل مہرجس قدر ذمہ خالد واجب الاداء ہے اس سے وصول کرکے زن متوفاۃ کے قرضخواہوں کودیں اور اگرایسانہیں توجس قدردَین غیرمحیط عورت پرہو اس کے کل متروکہ مہروغیرہ سے اداکرکے باقی ثلث میں اس کی وصیت اگر اس نے کی ہونافذ کرکے باقی کاایك ربع خالد پر سے ساقط کریں کہ یہ خود اس کاحصہ ہوا اورتین ربع دیگروارثان زن کودیں خواہ یہی پسرودختر ہوں یاان کے ساتھ اوربھی مثل مادر وپدرزن یا اس کے جد صحیح وجدہ صحیحہ علٰی قضیۃ الفرائض اﷲ تعالٰی۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۷۴: ازبہیڑی متصل مسجدلب سڑك مرسلہ مولوی مقیم الدین صاحب مصنف اسلام کھنڈ ۱۳صفر ۱۳۱۶ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص کی بی بی فوت ہوئی او راس کے بعد ایك لڑکا اورایك لڑکی جواس سے تھے وہ بھی فوت ہوگئے۔اب متوفیہ کے باپ کی جائداد متروکہ میں سے جو اس کے بھائی اورماں کے قبضہ میںہے متوفیہ کے شوہر کو ازروئے شرع شریف حصہ مل سکتاہے یانہیں؟ اگرمل سکتاہے توکس حساب سے؟ اورمتوفیہ کے ماں اوربھائی اس کے شوہر سے اگر اس نے معاف نہ کیا ہو زرمہر پانے کے مستحق ہیں یانہیں؟بیّنواتوجروا۔
الجواب:
ہندہ یعنی زن متوفاۃ کابھائی اس کے مہروغیرہ متروکہ سے کسی شیئ کامستح نہیں اور لیلٰی یعنی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع