30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جواب سوال ہشتم
یہ رواج باطل ومردودونامعتبرہے کہ صراحۃً مخالف شرع مطہر ہے کوئی رواج نص کے خلاف معتبرنہیں ہوسکتا ورنہ رباوزنا وشراب ورباب کارواج اس سے بدرجہا زائدہے۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم توفرمائیں:
|
فلا ولی رجل ذکر[1]۔ |
کہ وہ قریب ترین مرد کے لئے ہے(ت) |
جوفرائض مقدرہ دلاکر باقی بچے وہ اس مرد کاہے جوبہ نسبت دیگراقارب کے میت سے قریب ترہے،ایسے مرد کے ہوتے ہوئے جورَد کیاجائے گاصراحۃً حق تلفی وظلم ابعد اورایساردخودواجب الرد ہوگا،یہ رواج نہ صرف حدیث بلکہ اجماع امت کے خلاف ہے۔ مرقاۃ شرح مشکوٰۃ میں ہے:
|
قال النووی رحمہ اﷲ تعالٰی قد اجمعوا علی ان مابقی بعد الفرائض فہو للعصبات یقدم الاقرب فالاقرب[2]۔ واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔ |
امام نووی رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ نے فرمایا کہ مشائخ کا اس پراجماع ہے جواصحاب الفرائض کے بعد باقی بچے وہ عصبوں کے لئے ہے،جوسب سے زیادہ قریبی ہے اس کومقدم کیا جائے گا پھر اس کے بعد والا۔واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم(ت) |
مسئلہ ۷۳: ازدیگر شریف ضلع ہردوئی مرسلہ حضرت سیدمحمد زاہد صاحب ۱۸محرم الحرام ۱۳۱۶ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ خالد کی زوجہ اولٰی سے ایك پسر اور ایك دختر ہے،بعد فوت زوجہ اولٰی خالد نے عقدثانی کیا اس سے بھی اولاد ہے اب خالد ن اولاد زوجہ اولٰی کو مکان سے نکال دیا اورجملہ حقوق سے محروم کیا او رذمہ خالد کے مہرزوجہ اولٰی کاواجب الاداہے۔پس اس صورت میں اولاد زوجہ اولٰی مستحق پانے مہر وغیرہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع