30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سیدشریف قدس سرہ الشریف شریفیہ میں فرماتے ہیں:
|
لناان سبب استحقاق کل منہما میراث صاحبہ غیرمعلوم یقینا ولما لم یتیقن بالسبب لم یثبت الاستحقاق اذلایتصور ثبوتہ بالشک۔[1] |
ہمارے نزدیك ان دونوں میں سے ہرایك کے استحقاق کاسبب اس کے ساتھ کی میراث ہے جوکہ یقینی طوپرمعلوم نہیں۔ جب سبب یقینی نہ ہوا تواستحقاق ثابت نہیں ہوگا کیونکہ اس کاثبوت شك کے ساتھ متصورنہیں۔(ت) |
جواب سوال ششم
اس مبحث میں بمقابلہ ذوی الفروض کی قید زائد وضائع ہے کلام ایسی عصوبت بعیدہ کے ترکہ پانے میں ہے وہ زمانہ صحابہ کرام بلکہ زمانہ اقدس سیدانام علیہ افضل الصلوٰۃ والسلام میں واقع ہوا۔
حدیث نہم۹:عبدالرزاق اپنی مصنف میں اور ابن جریر وبیہقی ضحاك بن قیس سے راوی:
|
انہ کان طاعون بالشام فکانت القبیلۃ تموت باسرھا حتی ترثھا القبیلۃ الاخری[2] الحدیث۔ |
یعنی زمانہ امیرالمومنین فاروق اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ ملك شام میں طاعون واقع ہواکہ ساراقبیلہ مرجاتایہاں تك کہ دوسرا قبیلہ اس کاوارث ہوتا۔ |
حدیث دہم۱۰:ابوبکر بن ابی شیبہ اپنی مصنف اورامام ابوداؤد سنن میں حضرت بریدہ بن الحصیب رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی:
|
قال اتی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم رجل فقال ان عندی میراث رجل من الازد ولست اجد ازدیا ادفعہ |
یعنی ایك صاحب نے حضورسیدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضرہوکرعرض کی میرے پاس ایك ازدی یعنی قبیلہ بنی ازد سے ایك شخص کاترکہ ہے اور |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع