30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نے ان کاترکہ ان کے ایك ہم وطن کو عطافرمادیا۔علماء فرماتے ہیں یہ عطافرمانا بطورتصدق تھا نہ کہ بطورتوریث،اور خود حضوراقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم بذریعہ ولائے عتاقہ وارث نہ ہوئے کہ انبیاء کرام نہ کسی کے وارث ہوں نہ کوئی ان کا وارث مال ہو علیہ الصلوٰۃ والسلام۔
جواب سوال چہارم
شرع مطہر میں کہیں ایساحکم نہیں،نہ ترك دعوٰی،اگرچہ باوصف علم وفات مورث وعلم مسائل شرعیہ بالقصد بلکہ بالتصریح ہو موجب حرمان۔اشباہ میں ہے:
|
لوقال الوارث ترکت حقی لم یبطل حقہ[1]۔ |
اگروارث نے کہا میں نے اپناحق چھوڑدیا ہے تو اس کاحق باطل نہیں ہوگا۔(ت) |
غمزالعیون میں ہے:
|
لومات عن ابنین فقال احدھما ترکت نصیبی من المیراث لم یبطل لانہ لازم لایترك بالترک[2]۔ |
اگرکوئی شخص دو بیٹے چھوڑکرمرگیا ان میں سے ایك نے کہا میں نے میراث سے اپناحصہ چھوڑدیا تو اس کاحصہ باطل نہیں ہوگا کیونکہ اس کاحصہ لازم ہے جوچھوڑنے سے متروك نہیں ہوتا(ت) |
بلکہ شرع مطہر میں حکم ہے کہ اگرکچھ لوگ قاضی کے پاس حاضرآئیں اورکسی جائداد غیرمنقولہ کی نسبت ظاہرکریں کہ ان کے فلاں مورث سے ترکہ میں انہیں پہنچی اور اس کی تقسیم چاہیں توقاضی صرف ان کے بیان پراس کی تقسیم نہ کرے جب تك بینہ سے ثابت نہ کریں کہ مورث مرگیا اوراتنے وارث چھوڑے۔
|
فی الدرالمختار عقار یدعون انہ میراث عن زید لایقسم حتی یبرھنوا علی موتہ |
درمختار میں ہے کہ کچھ لوگ کسی غیرمنقولہ جائداد کے بارے میں یہ دعوٰی کریں کہ وہ زید کی میراث ہے توقاضی اس کی تقسیم نہ کرے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع