30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اب تك کوئی عصبہ نسبی نہیں یہاں تك کہ بعد نزول ان کے اولاد زکورپیداہوں۔اب رہا زمانہ رسالت میں وقوع،اس کے لئے حدیثیں سنئے:
حدیث ہفتم۷:سنن ابی داؤد وجامع ترمذی میں ام المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا سے ہے:
|
ان مولی النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم مات وترك شیأا ولم یدع ولد اولا حمیما فقال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اعطوا میراثہ رجلا من اھل قریتہ[1]۔ |
نبی کریم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کاایك آزاد شدہ غلام فوت ہوا اس نے کچھ مال چھوڑا اوراولاد نہیں چھوڑی،نہ کوئی اور قرابت دارچھوڑا،تورسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:اس کی میراث اس کے قریہ والے کسی مرد کو دے دو۔ (ت) |
حدیث ہشتم۸:مسندالفردوس حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے مروی:
|
ان ورد ان مولٰی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وقع من عذق نخلۃ فمات فاتی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم بمیراثہ فقال انظروالہ ذا قرابۃ قالوا مالہ ذوقرابۃ قال فانظروا ھمشھریًّا لہ فاعطوہ میراثہ یعنی بلدیًّا لہ[2]۔ |
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کاوردان نامی ایك آزاد شدہ گلام کھجور کے ایك درخت سے گرگیا اورفوت ہوگیا اس کی میراث رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ے پاس لائی گئی تو آپ نے فرمایا کہ اس کا کوئی قرابتدار دیکھو،صحابہ نے عرض کی اس کاکوئی قرابتدار نہیں۔تو آپ نے فرمایا اس کاکوئی ہم وطن یعنی اس کے شہر کاکوئی شخص دیکھو تو اس کی میراث اسے دے دو۔(ت) |
ان دونوں حدیثوں کاحاصل یہ کہ حضوراقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے ایك غلام آزادشدہ نے انتقال فرمایا ان کے نہ اولاد تھی نہ کوئی قرابتدار،حضوراقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع