30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ثانیًا: ایك کافرہ حاملہ مسلمان ہوئی اورایام اسلام میں بچہ پیداہوا اس کے چھوٹے بچے جوزمانہ کفرہی میں پیداہوئے تھے بحکم الولد یتبع خیرالابوین دینا[1] (بچہ والدین میں سے بہتردین رکھنے والے کے تابع ہوتاہے۔ت)مسلمان قرارپائے ان بچوں کا کوئی قریب نسبی ان کا عصبہ نہیں۔
ثالثًا: رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:للعاھر الحجر[2]۔زانی کے لئے پتھر(ت)
توولدالزنا کانہ کوئی باپ نہ کوئی عصبہ نسبی،لہٰذا ایك عورت کے دوبچے کہ زنا سے ہوں اگرچہ ایك مردسے ہوں باہم ولدالام کی میراث پاتے ہیں نہ بھی الاعیان کی کما فی الدرالمختار وغیرہ من الاسفار(جیسا کہ درمختار وغیرہ ضخیم کتابوں میں ہے۔ت)
رابعًا: زن وشونے لعان کیابچہ بے عصبہ نسبی رہ گیا لانہ ایضا لااب لہ کما فی الدر ایضا(کیونکہ اس کابھی کوئی باپ نہیں جیسا کہ درمختار میں ہے۔ت)
خامسًا:دارالحرب سے کچھ کفار مقیدہوکر آئے امیرالمومنین نے غانمین پرتقسیم فرمادئیے یہ سب کنیزوغلام مسلمان ہوگئے آپس میں نہایت قریب کے رشتہ دار ہیں اور سب مسلم مگرسب مملوک،اب ان میں ایك آزاد ہوا،باقی اس کے عصبہ نسبی نہیں کہ رق مانع ارث ہے۔
سادسًا: ایك بچہ سڑك پرپڑاہوا ملا پرورش کیاگیا اس کاعصبہ نسبی کسے کہاجائے اسی طرح اوربعض صوربھی ممکن،ان میں بعض صورتیں علم عدم کی ہیں جیسے ولدزنا ولعان،بعض عدم علم کی جیسے لقیط،اورمقصود اس سے بھی حاصل کہ توریث بے علم نا ممکن،لاجرم ردوغیرہ مدارج تحتانیہ کی طرف رجوع ہوگی،ہمارے زمانے میں زوجین پربھی رَدہوتاہے کمانصوا علیہ(جیسا کہ مشائخ نے اس پرنص فرمائی ہے۔ت)اب سوال سوم خود مندفع ہوگیا اورحاجت جواب نہیں۔
تنبیہ:ان امور کے سوا ایك صورت نادرہ اورہے کہ وہ بھی ایك بارواقع ہوئی اورممکن توبے شمار بارہے یعنی بچے کابن باپ کے پیداہونا۔سیدنا عیسٰی کلمۃ اﷲ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے لئے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع