30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اسلام میں نسب جہاں جاکرملے موجب وراثت ہے،حدیث ششم میں مولاعلی کرم اﷲ وجہہ کاارشاد کہ رشتہ دارپاس کاہو یا دورکا،جب اورنہ ہوتوسب مال اسی کاہے۔ان ارشادات نے تو تمام قریب وبعید کے عصبات نسبی کو دائرئہ توریث میں داخل فرمایا اورحدیث دوم میں حضورسیدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے ارشاد اقدس نے کہ جواہل فرائض سے بچے وہ قریب تر مرد کے لئے ہے ترتیب الاقرب فالاقرب کاحکم بتایا لاجرم بلحاظ قرب اتصال یہ اقسام اربعہ منتظم ہوئیں۔
جواب سوال دوم
ہرگزناممکن نہیں بلکہ بارہا واقع ہوا اور خودزمانہ رسالت میں ہوا،اوراب واقع ہے اورعادۃً واقع ہوتارہے گا۔
اوّلًا: فرض کیجئے مجوس وہنوز ونصارٰی یہودوغیرہم کفار کی اقوام سے ایك شخص مسلمان ہوا اور اس کے باقی رشتہ داراپنے کفرپر ہیں ان میں ان کاعصبہ نسبی کون ہے کوئی نہیں۔
|
قال اﷲ تعالٰی"اِنَّہٗ لَیۡسَ مِنْ اَہۡلِکَ ۚ اِنَّہٗ عَمَلٌ غَیۡرُ صٰلِحٍ ۫٭ۖ" [1]۔ |
اﷲ تعالٰی نے فرمایا:"وہ تیرے گھروالوں میں نہیں بےشك اس کے کام بڑے نالائق ہیں۔(ت) |
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
|
لایرث المسلم الکافر ولاالکافر المسلم،رواہ الشیخان [2] عن اسامۃ بن زید رضی اﷲ تعالٰی عنھما۔ |
مسلمان کافرکاوارث نہیں ہوتا اورنہ ہی کافرمسلمان کا۔اس کو شیخین نے حضرت اسامہ بن زید رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے روایت کیا۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع