30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فقلت یقسم بین البنتین والاخ اتساعا بقدر سھامھم لانہ ذکر فی کتاب العین والدین اذاکان علٰی بعض الورثۃ دین من جنس عین الترکۃ یحسب ما علیہ من الدین کانہ عین ویترك حصتہ علیہ و یترك العین لانصباء غیرہ من الورثۃ فحسبنا علی الزوج من المہر خمسۃ وعشرین دینارا کانہ عین و بقی الخمسون دینارا فی نصیب البنتین و الاخ فتکون بینھم علٰی سھامھم من اصل المسألۃ[1]، واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔ |
پچاس دینار کے کچھ نہیں چھوڑا،تومیں نے کہا کہ ترکہ کے نو حصے بناکردوبیٹیوں اوربھائی کے درمیان ان کے سہام کے مطابق تقسیم کیاجائے گا،اس لئے کہ کتاب العین والدین میں مذکورہے جب کسی وارث پرعین ترکہ کی جنس سے کچھ قرض ہو تو اس قرض کو اس کے حصہ میں شمار کریں گے گویا کہ وہ عین ہے،اور اس کاحصہ اس قرض پرچھوڑدین گے اور عین کو اس وارث کے علاوہ دیگرورثاء کے حصوں کیلئے چھوڑ دیاجائے گا۔چنانچہ ہم نے شوہر پرمہر میں سے پچیس دینارشمارکئے گویا کہ وہ عین ہیں۔اور باقی پچاس دینار دوبیٹیوں اوربھائی کے حصہ میں بچ گئے تو وہ ان کے درمیان اصل مسئلہ میں سے ان کے سہام کے مطابق ہوں گے۔واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم و علمہ جل مجدہ اتم واحکم۔(ت) |
مسئلہ ۶۳: ۹ذیقعدہ ۱۳۱۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے انتقال کیا اوردولڑکے اول بیوی کے چھوڑے،اورایك لڑکی دوسری بیوی سے چھوڑی،اوربیوی دوسری زندہ ہے اورپہلی بیوی نے انتقال کیا شوہر کے روبرو،اورمہراس کاذمہ شوہر کے چاہئے،اب لڑکے اس کے مہراپنی ماں کاطلب کرتے ہیں۔بیّنواتوجروا۔
الجواب:
سائل مظہرکہ پہلی زوجہ کامہر پچیس ہزارہے اوردوسری کاتین سوساٹھ تھا جس میں سے ڈیڑھ سوزیدنے خود ہی اداکردئیے تھے، اب دوسودس باقی ہیں اور جائداد دونوں مہروں کو
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع