30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کہ قیاسًا تومہرمیں سے بھی نصف حصہ زید کو پاناچاہئے ہے مگرمہر کوشارع اسلام نے بغرض احترام بضع رکھا ہے اورغایت اس کی عزت واحترام زوجہ ہے اور بحالت نصف حصہ پالینے زید کے مہرمیں سے بھی یہ غایت فی الجملہ ہوجائے گی،ہرصورت کے جزئی بھی باحوالہ کتب تحریرفرمائی جائے اورجواب سے جدل سرفرازی بخشی جائے فقط۔
الجواب:
صورت مستفسرہ میں ضرور نصف مہرذمہ زید سے ساقط ہوا نہ بمعنی عدم وجوب رأسًا کہ مہر بعد تأکد بالموت بایں معنی قابلیت سقوط نہیں رکھتا اورغایت مذکورہ میں اگر کچھ نقص آتا تو اسی صورت سے،بلکہ بمعنی تملك بخلافت ووراثت زوجہ لقولہ تعالٰی " وَلَکُمْ نِصْفُ مَا تَرَکَ اَزْوٰجُکُمْ اِنۡ لَّمْ یَکُنۡ لَّہُنَّ وَلَدٌ ۚ"[1] (اﷲ تعالٰی کے اس ارشاد کی وجہ سے"اورتمہاری بیبیاں جوچھوڑ جائیں ان میں سے تمہیں آدھا ہے اگر ان کی اولاد نہ ہو۔ت)اورشك نہیں کہ مہربھی متروکہ زوجہ میں داخل ہے اور یہ معنی اس غایت کے منافی نہیں بلکہ مؤکد ومقرر ہیں کہ کل مہرزوجہ ولومالًا منافی غرض مذکور ہوتو ہبہ وابرابھی ناجائزہوں مگر وہ یونہی جائز ہیں کہ ملك زوجہ پرمتفرع ہیں تو اس کے مقرر ہیں نہ دافع اگرچہ رافع ہوں بلکہ اگررفع بھی خلافت غایت ہو تو اس سے چارہ کہاں کہ موت قطعا نافی ملك ہے،اگرکہئے کہ ملك ورثہ بوجہ خلافت قائم مقام ملك زوجہ ہے توگویا وہ ببقائے نائب باقی ہے توملك زوج بھی اس نصف میں وراثۃً ہی ہوئی یہاں بھی وہی گویا حاصل اورشبہ زائل،قنیہ میں ہے:
|
قال استاذنارحمہ اﷲ تعالٰی سئلت عمن ماتت عن زوج وبنتین واخ لاب وام ولامال لھا سوی مھر علی زوجہا مائۃ دینار ثم مات الزوج و لم یترك الا خمسین دینارا |
ہمارے استاذصاحب رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ نے فرمایا مجھ سے اس عورت کے بارے میں پوچھاگیا جوخاوند اوردوبیٹیاں اور ایك حقیقی بھائی چھوڑ کرانتقال کرگئی اور اس کاکوئی مال نہیں سوائے اس کے کہ سودینار اس کے مہر کے خاوند کے ذمے ہیں، پھرخاوندمرگیا اورسوائے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع