30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
مستغرقۃ بالدین نعم لاحلف علیہ ح کما فی وصی الھندیۃ[1] عن المحیط۔ |
گھراہواہو۔ہاں اس صورت میں اس پرقسم نہیں آتی۔جیساکہ ہندیہ کے باب الوصی میں محیط سے منقول ہے۔(ت) |
مگریہ اس حالت میں ہے کہ وارثان زن متوفاۃ پرکوئی امرمسقط مدعی یامانع دعوی ثابت نہ ہو ورنہ دعوٰی نامسموع ہوگا کمالایخفی واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم(جیسا کہ پوشیدہ نہیں،اوراﷲ سبحانہ،وتعالٰی خوب جانتاہے۔ت)
مسئلہ ۶۰: زید کی بیٹی کاخالد کے ساتھ نکاح ہوا،دس ہزار مہرمعین ہوا،زید کی بیٹی مرگئی،ایك لڑکا اورایك لڑکی اوروالدین اور شوہر اس کاباقی رہا،خالد کے پاس پانچ ہزار کی ملکیت ہے،درصورت غیردعویدارہونے اولاد اورشوہر کے والدین کوحصہ کس قدر ملکیت موجودہ سے ملناچاہئے یا بقدرمہر؟بیّنواتوجروا
الجواب:
صورۃ مستفسرہ میں چہارم مہرکاشوہر کے ذمہ سے ساقط ہوگیاباقی اگرتمام وکمال اسے حصول نہ ہوتوجتناوصول ہو ہروارث اس میں سے بقدر سہم فرائض کے لے سکتاہے نہ یہ کہ بعض ورثہ اپنا کل مطالبہ لے لیں،سائل مظہر ہے کہ اولاد دونوں نابالغ ہیں اس صورت میں اس کادعوٰی نہ کرنا کب کیا مسقط حق ہوسکتاہے البتہ اگرکوئی وارث بالغ دَین میں سے بقدر اپنے سہم کے معاف کردے تو باقی ورثہ اپنا اپنا مطالبہ لے سکتے ہیں۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۶۱: ۴شعبان ۱۳۱۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں،زیدمرا،زوجہ اپنی کو سہ ماہ کے حمل میں چھوڑا،بعد انتقال زید کے چھ ماہ کے بعد لڑکا پیداہوا،عمروازراہ ب دنیتی وخوف اس کے کہ لڑکازیدمتوفی کی جائداد کامستحق ہو اس کی حق تلفی کے واسطے لڑکے کو ولدالحرام بیان کرتاہے اور کہتاہے کہ بعدانتقال زید کے لڑکا سوابرس کے بعد پیداہوا،اولاتولڑکاصحیح طور پربعدانتقال زید کے چھ ماہ کے بعد پیدا ہوا،اوربالفرض عمروکاقول تصدیق کیاجائے کہ لڑکاسوابرس کے بعد پیداہوا توبموجب شرع شریف کے لڑکاحلالی ہے یاولد الحرام؟ اورزیدمتوفی کے نطفے سے ہے یانہیں؟بیّنواتوجروا(بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع