30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
والثلث لمن یدلی بقرابۃ الام [1] اھ مختصرًا۔ |
اس کے لئے دوتہائی اورجوماں کی قرابت کے واسطے سے میت کی طرف منسوب ہو اس کے لئے ایك تہائی ہوگا اھ مختصرًا(ت) |
مسئلہ ۵۷: ۱۹محرم الحرام ۱۳۱۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسمی ننھے فوت ہوایك زوجہ ایك بیٹا ایك بیٹی ایك بھائی حقیقی وارث چھوڑے،ننھے کی بی بی مہرمعاف کرچکی ہے اوراپنا نکاح ثانی کیاچاہتی ہے اور بچوں کو کہ ابھی نابالغ ہیں چھوڑے دیتی ہے،پس ترکہ ننھے کا ان وارثوں کو کس قدرپہنچے گا اور حق ولایت بچوں کاکس کوپہنچتاہے؟بیّنواتوجروا
الجواب:
بیان سائل سے واضح ہوا کہ لڑکا آٹھ برس کا اور لڑکی چار برس کی ہے اورننھے کابھائی جوان ہے اور ان بچوں کی نانی بیوہ زندہ ہے اور عورت ایسے شخص سے نکاح کیاچاہتی ہے جو ان بچوں کامحرم نہیں،پس صورت مستفسرہ میں لڑکا تو ابھی سے اپنے چچا پس رہے گا۔اورلڑکی اپنی ماں کے پاس نوبرس کی عمرتك رہے گی اگروہ عورت ایسے شخص سے نکاح نہ کرے اور اگرنکاح کرے گی تولڑکی تنی عمر تك اپنی نانی کے پاس رہے گی اس کے بعد چچا کی سپردگی میں دی جائے گی اور ترکہ ننھے کابرتقدیر عدم موانع ارث و انحصار ورثہ فی المذکورین وتقدیم مہرودیگر دیون ووصایا چوبیس ۲۴سہام پرمنقسم ہوکرتین سہم زوجہ اورچودہ سہم پسر اورسات دختر کو ملیں گے اوربھائی کچھ نہ پائے گا۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۵۸: ۱۳ربیع الآخر۱۳۱۲ھ مرسلہ بولاقی خاں بریلی
جناب مولوی صاحب سلامت،بعدآدب گزارش ہے کہ ایك ہمشیرہ اورتین ہم بھائی ہیں،جناب والد صاحب نے ایك عرصہ سے سب کام چھوڑدیاتھا جومجھ کو میسرآتاتھا حاضرلاتاتھا ایك ہمشیرہ میری نابالغ تھی اس کو میں نے اپنی محنت سے پرورش کرکے شادی کردی اوردونوںبھائی چھوٹے ان کوبھی پرورش ك یا اور بھائیوں کی بھی شادی کردی،اب جوجائداد والد کے وقت کی ہے وہ طلب کرتے ہیں،واجب ہے یانہیں؟ اوربعد گزرنے والد کے اور
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع